.

''ہم قابضین کے ساتھ اکٹھے نہیں رہ سکتے'': خالد مشعل

''یہودیوں، عیسائیوں، عربوں اورغیرعربوں کے ساتھ اکٹھا رہنے کو تیار ہیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس کے سربراہ خالد مشعل نے اسرائیل سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ فلسطینی اپنے ہمسایوں کے ساتھ قبضے کی حالت میں نہیں رہ سکتے ہیں۔

اںھوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے ساتھ انٹرویو میں کہی ہے۔''فیس دا نیشن'' پروگرام میں ان کے اس انٹرویو کے کچھ حصے اتوار کو نشر کیے گئے ہیں اور سوموار کو یہ مکمل نشر کیا جائے گا۔

ان سے سی بی ایس نیوز کے معروف انٹرویور چارلی روز نے سوال کیا کہ ''کیا وہ اسرائیلیوں کے ساتھ امن سے رہنے کی پیشین گوئی کرسکتے ہیں؟'' تو ان کا جواب تھا:''یہ تو مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست ہی صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے''۔

چارلی روز کے صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق بار بار کُریدنے پر خالد مشعل نے واضح کیا کہ ''ہم جنونی نہیں ہیں ،ہم بنیاد پرست بھی نہیں۔ہم یہودیوں سے اس لیے نہیں لڑرہے ہیں کہ وہ یہودی ہیں۔ہم کسی بھی اور نسل سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نہیں لڑتے ہیں بلکہ ہم قابضین کے خلاف لڑرہے ہیں''۔

حماس کے سربراہ نے کہا کہ ''میں یہودیوں ،عیسائیوں ،عربوں اور غیر عربوں کے ساتھ اکٹھا رہنے کو تیار ہوں لیکن میں قابضین کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں ہوں''۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا فلسطینی اسرائیل کو صہیونی ریاست کے طور پر تسلیم کرسکتے ہیں؟ خالد مشعل نے اس کے جواب میں حماس کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ''ان کی جماعت اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی ہے''۔

اںھوں نے واضح کیا کہ ''جب ہماری فلسطینی ریاست قائم ہو گی تو پھر یہ فلسطینی ریاست اپنی پالیسیوں کا فیصلہ کرے گی۔آپ مجھ سے مستقبل کے بارے میں سوال نہیں کرسکتے اور میں نے آپ کو جواب دے دیا ہے مگر جب فلسطینیوں کی قبضے سے آزاد ریاست ہوگی تو وہ اپنی بات کرنے کے قابل ہوں گے''۔

قبل ازیں حماس نے اسرائیل کے ساتھ اتوار کی دوپہر سے چوبیس گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے باوجود غزہ کی پٹی میں لڑائی جاری ہے اور اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو اپنے زمینی اور فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہی ہے۔جنگ پسند اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی فوج حماس کے سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی جاری رکھے گی۔