اسرائیلی غزہ مہم میں طوالت کے لیے تیار رہیں:نیتن یاہو

فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں 9 صہیونی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے جنگ پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے ملک کے شہریوں سے کہا ہے کہ انھیں غزہ کی پٹی میں جاری جنگ میں طوالت کے لیے تیار رہنا چاہیے جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں نو صہیونی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

نیتن یاہو نے یہ بھاشن سوموار کی شب ایک نشری تقریر میں دیا ہے۔تقریر کے دوران ان کے چہرے پر کرختگی واضح تھی۔انھوں نے کہا کہ ''بحران کے کسی بھی حل کے لیے فلسطینی علاقے کو غیرمسلح کیا جانا ضروری ہے''۔

صہیونی وزیراعظم نے کہا کہ ''ہم مشن کو ختم نہیں کریں گے،ہم سرنگوں کو ناکارہ بنائے بغیر آپریشن ختم نہیں کریں گے کیونکہ ان کا واحد مقصد ہمارے شہریوں کو تباہ کرنا اور ہمارے بچوں کو ہلاک کرنا ہے''۔انھوں نے مزید کہا کہ آج کا دن بہت ہی دردناک رہا ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں نو صہیونی فوجی مارے گئے ہیں۔ان میں سے چار ایک مارٹر حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ایک ہی دن میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجیوں کی اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتوں پر انتہا پسند صہیونی وزیراعظم کا چہرہ اُتر گیا ہے اور وہ اس کو ایک دردناک دن قرار دے رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے اپنے ہم وطنوں کو باور کرادیا ہے کہ''ہمیں غزہ میں فوجی مہم کی طوالت کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار رکھنا چاہیے۔جب تک ہمارا مشن مکمل نہیں ہوجاتا ،ہم طاقت کے ساتھ کارروائی جاری رکھیں گے''۔گویا عالمی دباؤ کے باوجود وہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں اور وہ نہتے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ان کی اس تقریر سے یہ بھی عیاں ہے کہ انھوں نے امریکی صدر براک اوباما کی فوری جنگ بندی کے لیے اپیل کو بھی درخور اعتناء نہیں جانا ہے۔

اس دوران میڈیا سے یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ بعض فلسطینی مجاہدین غزہ کی پٹی سے سرحد عبور کرکے اسرائیلی علاقے میں داخل ہوگئے ہیں اور ان کی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ لڑائی جاری تھی۔تاہم فوری طور پر اس جھڑپ میں ہلاکتوں کا پتا نہیں چل سکا ہے۔

اسرائیل نے 8 جولائی کو فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کو روکنے کے نام پر جنگ شروع کی تھی۔پہلے اسرائیلی فوج جنگی طیاروں سے فلسطینیوں پر تباہ کن بمباری کرتی رہی تھی اور 17 جولائی کو اس نے غزہ کی پٹی میں ٹینکوں کے ساتھ ہزاروں زمینی دستے داخل کردیے تھے۔

اسرائیلی فوج کے زمینی اور فضائی حملوں ،گولہ باری اور فائرنگ سے ایک ہزار ساٹھ سے زیادہ فلسطینی شہید اور چھے ہزار دوسو سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی میں اب تک اڑتالیس صہیونی فوجی مارے جاچکے ہیں اور 2006ء میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے بعد صہیونی فوج کا یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔ان کے علاوہ تین عام یہودی بھی مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں