.

محاصرہ کے خاتمے تک غزہ جنگ جاری رہے گی: القسام

بریگیڈ کے جنرل کمانڈر محمد الضیف کا نشری پیغام میں اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ملٹری ونگ عزالدین القسام کے جنرل کمانڈر محمد الضيف نے اس خیال کو مسترد کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کار غزہ میں قیامِ امن کے لیے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے راضی ہیں۔

حماس کے عسکری ونگ کے اہم کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان کے فوج ’موت کے لیے بے تاب‘ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حماس کے ترجمان سیٹلائیٹ ٹی وی چینل 'الاقصی' سے نشر ہونے والے اپنے ریکارڈ شدہ بیان میں کیا۔

محمد الضیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ پر انتہائی بمباری کا ایک اور دن گزرا ہے جس میں علاقے کا واحد پاور پلانٹ بھی تباہ ہو گیا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بارہ سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس بھاری جانی نقصان کے باوجود حماس نے لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل نے منگل کو غزہ پر حملے تیز تر کر دیے کے نتیجے میں ایک ہی دِن میں کم از کم ایک سو اٹھائیس افراد شہید ہوئے۔ آٹھ جولائی سے لڑائی شروع ہونے کے بعد یہ بدترین دِن تھا۔ فلسطینی شہدا کی تعداد بارہ سو انتیس ہو چکی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے 56 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو اسرائیلی شہری اور اسرائیل میں ہی ایک تھائی لینڈ کا شہری بھی ہلاک ہو چکا ہے۔

اسرائیل نے منگل کو تباہ کُن فضائی اور زمینی کارروائیوں میں غزہ پر حماس کے کنٹرول کی اہم علامتیں بھی تباہ کر دیں۔ وہاں کام کرنے والے واحد پاور پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد منگل کی شب غزہ پٹی تاریکی میں ڈوبی رہی۔

تازہ حملوں کے نتیجے میں غزہ کی سترہ لاکھ کی آبادی بجلی اور پانی سے بھی محروم ہو گئی۔ خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق اس کے باوجود حماس کے رہنما اس بات پر بضد ہیں کہ جب تک محاصرہ خترم کرنے سے متعلق ان کے مطالبے پورے نہیں کیے جاتے وہ سیز فائر پر تیار نہیں ہوں گے۔