حماس نے لبنانی تنظیم حزب اللہ سے مدد مانگ لی‎

اسرائیل کے خلاف مل کر لڑ سکتے ہیں: موسی مرزوق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اس کا ساتھ دے۔ حماس کی طرف سے یہ اپیل ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے 23 دنوں میں اب تک 1323 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

حماس کے سیاسی شعبے کے سینئر رکن موسیٰ ابو مرزوق کے حوالے سے روسی خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے ان کی طرف سے امید ظاہرکی گئی ہے کہ'' لبنانی محاذ کے کھلنے سے ہم اسرائیل کے خلاف مل کر لڑ سکیں گے۔''

واضح رہے حزب اللہ ان دنوں شام کے صدر بشارالاسد کی فوج کے ساتھ ملکر شامی باغیوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ حماس کی امید ہے کہ حزب اللہ کے سرگرم ہونے سے اسرائیل کی لبنان کے ساتھ لگنے والی جنوبی سرحد گرم ہو جائے گی۔ حزب اللہ سے پہلے بھی وہ اسرائیل کے خلاف ایک جنگ لڑ چکی ہے۔

قاہرہ میں موجود حماس رہنما ابو مرزوق نے اپنی تقریر میں اس بارے میں استدلال پیش نہیں کیا ہے کہ لبنان کی طرف سے اس نوعیت کی مزاحمت کافی ہو گی، البتہ اس موقع پر انہوں نے قطر اور ترکی کی جانب سے فلسطینی عوام کی بھلائی کے لئے کی جانے والی سفارتی کوششوں پر دونوں ممالک کو خراج تحسین پیش کیا۔

خیال رہے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی امن کوششوں کے لیے مصر نے سہولت کاری کا اہتمام کیا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں میں ترکی، قطر اور فلسطینی صدر محمود عباس بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل بدھ کے روز دو اسرائیلی نمائندے غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کے موضوع پر مصری حکام سے بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچے ہیں۔ اس ہفتے کے اواخر میں قاہرہ میں ایک فلسطینی وفد کی آمد بھی متوقع ہے۔

اس سے پہلے حماس مصری جنگ بندی تجویز کو مسترد کر چکی ہے۔ حماس کا موقف ہے کہ غزہ کا تقریبا سات برسوں پر محیط محاصرہ ختم کیے بغیر جنگ بندی کے کوئی معنٰی نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں