.

شام: کردوں اور جہادیوں میں شدید لڑائی، 49 افراد ہلاک

حلب اور دیرالزور میں قبائلیوں کا داعش کے متعدد ٹھکانوں پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی صوبہ حلب میں کرد جنگجوؤں اور دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کے نتیجے میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ کردوں نے داعش کے متعدد ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعرات کواطلاع دی ہے کہ عین العرب کے علاقے میں بدھ کو کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی۔مرنے والوں میں چودہ کرد جنگجو اور پینتیس جہادی شامل ہیں اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے عین العرب میں لڑائی کے بعد اب صورت حال معمول پر آگئی ہے۔اس لڑائی میں کرد جنگجوؤں نے داعش کے جہادیوں کے زیر قبضہ بہت سی پہاڑیوں قبضہ کر لیا ہے اور وہاں اپنی پوزیشنیں قائم کرلی ہے۔

آبزرویٹری نے شام کے شمال مشرق میں سنی قبائل اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کی بھی اطلاع دی ہے اور ان قبائل نے ٹویٹر پر جاری کردہ پیغام میں اس لڑائی کو داعش کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے۔ مشرقی صوبہ دیرالزور میں شیطاط قبیلہ کے جنگجو بھی داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

یہ لڑائی اس قبیلے کے تین افراد کی داعش کے ہاتھوں گرفتاری کے ردعمل میں شروع ہوئی ہے۔اس قبیلے نے داعش کے جنگجوؤں سے کہا تھا کہ اگر اس کے ارکان کو ڈرایا دھمکایا یا ان پر حملے نہیں کیے جاتے ہیں تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔

دیر الزور میں اس لڑائی میں ایک بیلجیئن سمیت پانچ جہادی مارے گئے ہیں۔داعش کےجنگجوؤں نے گذشتہ ماہ تیل کی دولت سے مالامال دیرالزور کے مختلف علاقوں سے اپنے متحارب جنگجو گروپوں کو لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا ور وہاں اپنی عمل دار قائم کر لی تھی۔10 جون کو پڑوسی ملک عراق کے شمالی شہر موصل اور اس کے نواحی علاقوں میں سرکاری فوج سے لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔

داعش نے اس کے بعد پیش قدمی کرتے ہوئے عراق کے پانچ شمالی اور شمال مغربی صوبوں پر قبضہ کرلیا تھا اور وہاں خلافت کے نام سے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ اس کے جنگجوؤں نے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والی عراقی فوج کے اسلحے اور امریکی ساختہ گاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔اب وہ اسی اسلحے اور گاڑیوں کو عراق اور شام میں سرکاری فوجوں کے خلاف لڑائی میں بروئے کار لارہے ہیں۔