مزاحمت کاروں کے حملوں میں تین اسرائیلی فوجی ہلاک

سرنگوں کے خاتمے تک بمباری جاری رکھیں گے: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں اپنے تین اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے امن دشمن وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک مرتبہ پھر غزہ میں جنگ جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ بقول بنجمن یاہو اسرائیلی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی غزہ کی سرنگوں کے خاتمے تک حملے جاری رکھے جائیں گے۔

خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کے مطابق اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے بتایا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں بدھ کے روز تین فوجی ہلاک ہو گئے۔ جس کے بعد آٹھ جون سے جاری کارروائیوں مین فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 56 ہو گئی ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزارتِ خزانہ کے ڈائریکٹر جنرل یائیل انڈرون کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ پر اٹھنے والے بھاری اخراجات کے علی الرغم پبلک سیکٹر کے لیے مختص بجٹ مالی سال 2014,15ء متاثر نہیں ہو گا۔

تل ابیب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزارت خزانہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے پچھلے کئی سال سے تیار تھی۔ وزارت خزانہ نے بھی تمام تر انتظامات مکمل کر لیے تھے۔

اسرائیلی سیکرٹی مالیات کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صہیونی ماہرین معیشت اور میڈیا غزہ پر حملے کو اسرائیلی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں 23 روز سے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن حکومت کو مہنگا پڑ رہا ہے کیونکہ اس جنگ میں کئی ارب ڈالر کے اخراجات متوقع ہیں۔

درایں اثناء غزہ کی پٹی میں الشجاعیہ بازار اور الرمال کالونی میں اسرائیلی فوج کے تین فضائی حملوں میں 17 فلسطینی شہید اور 160 زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ صہیونی فوج نے بدھ کی شام الشجاعیہ کے مرکزی بازار اور الرمال کالونی پر جنگی جہازوں سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے میزائل حملے کیے جس کے نتیجے میں ایک صحافی رامی ریان سمیت سترہ شہری شہید ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے یہ فضائی حملے اس وقت کیے جب خود فوج کی جانب سے یک طرفہ طور پر چار گھنٹے کی جنگ بندی کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ چار گھنٹے کی جنگ بندی کا اطلاق غزہ کے ان علاقوں پر ہو گا جہاں فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے، جہاں آپریشن جاری ہے وہاں جنگ بندی نہیں کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں