نوری المالکی داعش کی شورش کے ذمے دار ہیں:زیباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے کرد وزیرخارجہ ہوشیار زیباری نے وزیراعظم نوری المالکی اور ان کے سکیورٹی عہدے داروں کو دولت اسلامی (داعش) کی شورش اور ملک کے پانچ صوبوں میں اس جنگجو گروپ کے قبضے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

انھوں نے جمعہ کو العربیہ نیوز چینل کے لیے بطور خاص جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہےکہ ''یقیناً عمومی پالیسیوں کے ذمے دار شخص اور مسلح افواج کے کمانڈر پر ہی یہ تمام تر ذمے داری عاید ہوتی ہے۔دفاع اور داخلہ کی وزارتوں کو بھی اپنی ذمے داری قبول کرنی چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ ''بعض دوسرے فریقوں پر بھی خراب حالات کی ذمے داری عاید ہوتی ہے۔یہ سیاسی شراکت دار ہوسکتے ہیں لیکن سب سے بڑی ذمے داری سرکاری پالیسیوں کے انچارج شخص پر ہی عاید ہوتی ہے''۔

کرد وزیرخارجہ کے اس بیان سے نوری المالکی کے زیرقیادت اہل تشیع کی بالادستی والی حکومت اور کردوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور اس سے عراقی جماعتوں کے درمیان شراکت اقتدار کے کسی فارمولے تک پہنچنے کے لیے کوششیں بھی پیچیدگی کا شکار ہوجائیں گی۔

درایں اثناء عراق کے سرکردہ شیعہ مذہبی رہ نما آیت اللہ علی السیستانی نے ملک کے سیاست دانوں سے کہا ہے کہ وہ انتقال اقتدار کے عمل میں رکاوٹ نہ بنیں۔ان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بالواسطہ طور پر نوری المالکی سے کہا گیا ہے کہ اقتدار چھوڑ دیں۔

واضح رہے کہ داعش نے مقامی مسلح قبائل اور دوسرے گروپوں کی مدد سے 10 جون کو عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد سے انھوں نے پورے صوبہ نینویٰ سمیت چار شمالی اور شمال مغربی صوبوں کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کر لی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں ،ان کے حامی سنی مزاحمت کاروں اور مسلح قبائلیوں کی ان فتوحات پر پورے خطے میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق موصل اور دوسرے شمالی شہروں پر داعش کے حملے کے وقت عراقی فوجیوں نے بالکل بھی مزاحمت نہیں کی تھی اور وہ ان شہروں کا دفاع کرنے کے بجائے اپنی وردیاں ،گاڑیاں ،اسلحہ اور چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔

داعش اور اس کے اتحادیوں کی پڑوسی ملک شام میں بھی پیش قدمی جاری ہے اورہر نئے دن کے ساتھ مزید علاقے ان کے زیر نگیں آرہے ہیں اور وہ وہاں سے شامی فورسز کو مار بھگا رہے ہیں۔

عراق میں اپریل میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں موجودہ وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں اتحاد نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔وہ اس بنیاد پر اب تیسری مدت کے لیے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں مگر انھیں اندرون اور بیرون ملک سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔سعودی عرب نوری المالکی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں پر کڑی تنقید کرچکا ہے اور اس نے سنی عربوں کو دیوار سے لگانے کی مذمت کرتے ہوئے قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔غیرملکی لیڈر نوری المالکی کی حکومت کی اہل سنت کو دیوار سے لگانے کی پالیسیوں ہی کو موجودہ بحران کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں اور وہ ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں