.

داعش کا شامی صوبہ دیرالزورکے دیہات سے انخلاء

غالب سنی قبیلہ کے ساتھ لڑائی کے بعد جنگجوؤں کو واپس بلانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی (داعش) نے شام کے مشرقی صوبہ دیرالزور کے متعدد دیہات میں ایک غالب سنی قبیلہ کے ساتھ لڑائی کے بعد اپنے جنگجوؤں کو وہاں سے واپس بلا لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ اس انتہا پسند گروپ نے دیرالزور کے تین دیہات ابو ہمام ،قشقیہ اور غرانیج سے اپنے جنگجوؤں کو واپس بلا یا ہے۔ان تینوں دیہات میں سنی قبیلے الشعيطات کی اکثریت ہے۔

اس قبیلے کے لوگوں نے ایک چوتھے گاؤں میں دولت اسلامی کے قائم کردہ ہیڈکوارٹرز کو نذرآتش کردیا ہے اور علاقے میں واقع پانچویں گاؤں سے بھی داعش کے جنگجوؤں کے انخلاء کی اطلاع ملی ہے۔مذکورہ سنی قبیلے اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان بدھ سے لڑائی جاری ہے اور قبائلیوں نے ٹویٹر پر جاری کردہ پیغام میں اس لڑائی کو داعش کے خلاف بغاوت قرار دیا تھا۔

یہ لڑائی اس قبیلے کے تین افراد کی داعش کے ہاتھوں گرفتاری کے ردعمل میں شروع ہوئی تھی اور اس قبیلے نے داعش کے جنگجوؤں پر آپس میں طے پائے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا۔اس میں کہا گیا تھا کہ قبیلے کی حمایت کے بدلے میں اس کے ارکان کو ڈرایا دھمکایا نہیں جائے گا اور اس پر حملے بھی نہیں کیے جائیں گے۔

لیکن داعش کے ارکان نے جمعرات کو اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان دیہات میں چھاپہ مار کارروائیاں کی تھی اور گھر گھر تلاشی کی کارروائی کے دوران متعدد افراد کو اغوا یا گرفتار کر لیا تھا۔آبزرویٹری کے مطابق دیر الزور میں اس لڑائی میں ایک بیلجیئن سمیت نو جہادی مارے گئے ہیں اور داعش نے سرحد پار عراق سے کمک طلب کی ہے۔

داعش کےجنگجوؤں نے گذشتہ ماہ تیل کی دولت سے مالامال دیرالزور کے مختلف علاقوں سے اپنے متحارب جنگجو گروپوں کو لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا ور وہاں اپنی عمل داری قائم کر لی تھی۔داعش کی میدان جنگ میں ان کامیابیوں کے باوجود عراق اور شام میں اس کی مخالفت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور شام کے اعتدال پسند اور سخت گیر باغی گروپ اس کی مخالفت کررہے ہیں۔