اسرائیلی مذمت کی لہر یہود مخالف لہر نہ بنے: اقوام متحدہ

بان کی مون کا مغربی ممالک میں اسرائیل مخالف احتجاج کے بعد بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ پر اسرائیلی دہشت گردی کے بعد دنیا بھر میں عوامی سطح پر مذمتی لہر کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے اسے یہودیوں کی مخالفت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

سیکرٹری جنرل نے یہ اس لیے کہا ہے کہ حالیہ عشرے میں بعض مسلمان تنظیموں کی دہشت گردی کا ملبہ شعوری طور پر دنیا بھر میں اسلام اور تمام مسلمانوں پر ڈال دیا گیا ہے، جس کے بعد ہر جگہ عام مسلمانوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگاہے۔ سیکرٹری جنرل ایسا یہودیوں کے ساتھ ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یہ بات غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کے باعث مغربی دنیا میں بالخصوص سامنے آنے والے اسرائیل مخالف ردعمل کی وجہ سے کہی ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مشرق وسطی کے حالات کی وجہ سے دنیا کے کسی دوسرے حصے میں سماجی امن اور ہم آہنگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پختہ یقین رکھتے ہیں جاری تنازعے کو تشدد کے خاتمے اور بات چیت کی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔

واضح رہے اسرائیل کے خلاف اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں لندن، جرمنی اور پیرس سمیت بڑے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں، اس دوران پیرس میں مظاہرین نے یہود مخالف انداز اختیار کیا۔ جبکہ لندن ، پیرس اور برلن میں یہود مخالف نعرے بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے قریب قریب دوہزار شہری شہید اور دس ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں مکانات و عمارات بمباری سے مسمار ہو گئے ہیں، ان میں ہسپتال، مساجد اور اقوام متحدہ کے ادارے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں