.

اسرائیل کا اعلان کے برعکس غزہ سے فوجی انخلاء

اسرائیلی فوج غزہ میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی: ترجمان حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے غزہ پر نہتے فلسطینیوں کے ہاتھوں اپنے 65 مسل فوجیوں کے ہلاکت کے بعد اپنے اس اعلان کے کے باوجود غزہ میں بھیجی گئی اپنی فوج کا عاجلانہ انخلاء مکمل کر لیا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل نے دوٹوک کہا تھا کہ وہ اب غزہ سے واپس نہیں جائے گا۔

غزہ سے اپنی فوج کے فوری انخلاء کا عمل اسرائیل نے 72 گھنٹے کے لیے منگل کے روز سے شروع ہونے والی جنگ بندی کی آڑ میں مکمل کیا ہے۔ واضح رہے آتھ جولائی سے جاری جنگ کے دوران اس سے پہلے جب بھی جنگ بندی ہوئی تو اسرائیل تھوڑی ہی دیر بعد اس کی خلاف ورزی کر کے بمباری شروع کرتا رہا۔

لیکن اپنی زمینی فوج کو غزہ سے نکالنے کے لیے اب کی بار اسرائیل نے جنگ بندی توڑنے کے لیے کوئی بہانہ پیش کیا نہ خلاف ورزی کی اور اپنے فوجیوں کو غزہ سے بحفاظت بچا کر لے گیا ہے۔ اب بدھ کی صبح سے پہلے ہی اسرائیل کے ٹینک سوار دستے اور پیدل فوج واپس اسرائیلی پوزیشنوں پر پہنچ گئے ہیں۔

اس سلسلے میں اسرائیلی ترجمان کا کہنا ہے کہ ''ہمارا اصل ہدف زیر زمین سرنگوں کا خاتمہ تھا، یہ ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس لیے اب غزہ سے جا رہے ہیں۔ ''دوسری جانب فوج کی طرف سے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ ''مشن مکمل ہو گیا۔''

اب اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے ٹینک ڈویژن اور پیدل دستے غزہ کے باہر اسرائیلی محاصرے کو موثر بنانے کے لیے تعینات کیا جا رہے ہیں تاکہ طویل محاصرے سے مجبور ہو کر غزہ کے فلسطینی اسرائیل کے خلاف اپنے موقف سے کنارا کشی اختیار کر لیں۔

واضح رہے 2007 سے اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے غزہ کے لوگ عملا قید کی زندگی گذار رہے ہیں۔ اس صورتحال میں انہوں زیر زمین سرنگیں کھود کر مصر وغیرہ سے خوراک کی ضروریات کسی حد تک پوری کرنے کا انتظام کر رکھا تھا، جبکہ اسرائیل کا دعوی ہے کہ یہ سرنگیں اسرائیل کے خلاف استعمال ہوتی تھیں۔

حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے اسرائیل کے غزہ سے جنگ بندی کی آڑ میں انخلاء کو اسرائیلی پسپائی اور شکست سے تعبیر کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ''اسرائیل کی زمینی فوج غزہ میں سو فیصد ناکام رہی ہے۔ ''

خیال رہے اسرائیل کی طرف سے غزہ کے خلاف شروع کی گئی بھرپور جنگ کے دوران کم از کم1867 فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں تقریبا چار سو بچے اور شیر خوار بھی شامل ہیں۔

تین روز کے لیے جاری جنگ بندی کو مستقل کرنے یا توسیع کے امکان پر غور کرنے کے لیے تمام فریق قاہرہ میں مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے بھجوا چکے ہیں۔ تاہم ان مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔