.

شمالی عراق میں داعش کے حملوں کے بعد عیسائیوں کا فرار

عراقی پادری کی پوپ فرانسیس سے عیسائی اقلیت کو بچانے کے لیے مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمال میں مسیحی آبادی والے علاقوں میں دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں نے نئے حملے کیے ہیں جن کے بعد عیسائیوں کی گھربدری کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

مسیحی ذرائع کے مطابق دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے عراق کے شمال میں واقع قصبوں تل کیف ،برتیلا اور قراقوش میں نئے حملے کیے ہیں۔یہ داعش کے زیرقبضہ سنجار کے علاقے کے نزدیک واقع ہیں۔ان قصبوں میں مقامی آبادی کے علاوہ شمالی شہر موصل پر داعش کے جنگجوؤں کے قبضے کے بعد دربدر ہونے والے عیسائیوں نے بھی پناہ لے رکھی ہے اور اب ایک مرتبہ پھر انھیں ان شمالی قصبوں سے بے گھر ہونا پڑرہا ہے۔

داعش کے تازہ حملوں کا نشانہ بننے والے بعض قصبے خودمختار کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل سے پچاس کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہیں۔عراق کے چالڈین چرچ کے پادری لوئی ساکو کا کہنا ہے کہ موصل کے شمال میں واقع قصبے تل کیف میں ایک مارٹر گولہ لگنے سے چرچ کا ایک ملازم ہلاک ہوگیا ہے۔

تل کیف کے ایک مقامی باشندے حنہ عزیز پالس نے بھی اپنے قصبے پر گولہ باری کی تصدیق کی ہے۔پادری ساکو کے مطابق برتیلا میں جہادیوں کے حملے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر جارہے ہیں۔

پادری ساکو نے رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس سے اسی ہفتے دنیا کی قدیم ترین عیسائی کمیونٹیوں میں سے ایک کو بچانے کے لیے فوری مدد کی درخواست کی ہے۔انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ''شمالی عراق میں ہونے والی تازہ پیش رفت کے بعد عیسائی بالکل الگ تھلگ ہوچکے ہیں۔وہ خوف زدہ ہیں اور انھیں ہردم یہ خدشات لاحق ہیں کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے''۔

سخت گیر گروپ دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے گذشتہ اتوار کو سنجار پر کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کے ساتھ لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔یہ قصبہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور یہاں زرتشت مذہب کے ایک قدیمی فرقہ یزیدی کے پیروکار صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں۔

ماضی میں کسی عراقی حکومت نے ان پر تبدیلی مذہب کے لیے دباؤ نہیں ڈالا تھا لیکن داعش کے جہادیوں نے انھیں ''شیطان کے پجاری'' قرار دیا ہے اور انھیں کہا ہے کہ وہ اسلام قبول کرلیں نہیں تو لڑائی کے تیار ہوجائیں یا پھر جزیہ دیں۔سنجار اور اس کے نواحی قصبے زمار پر داعش کے قبضے کے بعد قریباً چالیس ہزار یزیدی اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوس میں واقع خود مختار علاقے کردستان کی جانب چلے گئے ہیں یا جارہے ہیں۔