.

مصر: سمگلروں سے جھڑپ میں 5 پولیس اہلکار ہلاک

چار اسلحہ سمگلر بھی ہلاک ہوئے، واقعہ شمالی مصر میں پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شمالی عاقے میں غیر قانونی اسلحہ لے جانے والے سمگلروں اور سکیورٹی حکام کے درمیان مڈبھیڑ کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار شامل ہیں۔

یہ واقعہ ساحلی صوبے میں سکندریہ سے مغرب میں 175 کلومیٹر دور پیش آیا ہے۔ مصر ان دنوں اسلام پسندوں کی کارروائیوں کی زد میں ہے اور یہ علاقہ اسلام پسندوں کی مزاحمت کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان اسلام پسندوں کا مرکزاسرائیل سے جڑا ہوا جزیرہ نما سیناء ہے۔

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی پچھلے سال تین جولائی کو فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد ان کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ لیبیا میں سرگرم عسکریت پسند جزیرہ نما سیناء میں اسلامی عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط استوار کرنے کی کوشش میں ہیں۔

ان علاقوں میں عسکریت پسند سمگلروں کی مدد سے اسلحہ ممکن بناتے ہیں اور اس کے بدلے میں سمگلروں کو معاوضہ ادا کرتے ہیں۔

سکیورٹی حکام نے اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا سمگلروں کو روکا گیا تو انہوں نے فائر کھول دی جوابا سکیورٹی فورسز نے بھی گولی چلا دی۔ ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد نو ہے لیکن خدشہ ہے کہ یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

ان حکام کے مطابق ابھی یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ اسلحہ کس علاقے میں منتقل کیا جانا تھا۔ دوسری جانب لیبیا میں عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر صدر السیسی نے تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ بھی اطلاع آچکی ہے کہ مصر لیبیا کی بدامنی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ خیال کرتا ہے۔