داعش کا خوف: موصل سے ایک لاکھ عیسائی کردستان فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام [داعش] کے عراقی شہر موصل پر قبضے کے بعد کم سے کم ایک لاکھ عیسائی باشندے نیم خود مختار علاقے کردستان کے مختلف شہروں کی طرف نقل مکانی کر گئے ہیں۔

عراق میں بابل کلدان اور عالمی چرچ کے سربراہ پادری لوئیس ساکو نے بتایا کہ داعش نے موصل پر قبضے کے بعد مختلف مقامات پر موجود عیسائی عبادت گاہیں مسمار کرکے ان پر سے صلیبیں اتار دیں اور 1500 تاریخی نوادارات کو نذر آتش کر دیا گیا۔

لوئیس ساکو نے کہا کہ موصل میں داعش کے جنگجوؤں کی آمد کے بعد ایک لاکھ عیسائی باشندے خالی ہاتھ کردستان کے شہروں اربیل، دھوک اور سلیمانیہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ پناہ گزین عیسائیوں کے پاس طعام وقیام کا کوئی انتظام نہیں جس کے باعث ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

درایں اثناء کرکوک وسلیمانیہ شہروں کے عیسائی پادری یوسف توما نے اپنے ایک بیان میں حالات کی سنگینی پر سخت انتباہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ داعش کے حملوں کے بعد کئی شہروں سے عیسائی اپنی جانیں بچانے کے لیے عراق کے مختلف علاقوں کی طرف فرار ہو چکے ہیں۔ یوسف توما کا کہنا تھا کہ عیسائی شہریوں کے مسائل اور مشکلات ناقابل بیان ہیں۔ ان کی زندگیاں بچانے کے لیے سلامتی کونسل کو فوری مداخلت کرنا ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ فرہ فوش، برطلہ اور کرملیس شہروں سے عیسائی باشندے مکمل طور پر انخلاء کر چکے ہیں۔ داعش سے خوف سے شہری پیادہ اور گاڑیوں پر سوار کردستان کے مرکزی شہر اربیل پہنچ رہے ہیں۔ عیسائی پادری کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں کی جانب سے ہاون راکٹ حملوں کے نتیجے میں چار عیسائی باشندے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ کئی شہروں سے عیسائی آبادی کا مکمل صفایا ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ داعش نے دو ماہ قبل عراق اور شام کے کئی شہروں میں خلافت قائم کر لی تھی۔ داعش کے زیر نگین علاقوں میں بڑی تعداد میں عیسائی بھی آباد ہیں۔ شام میں داعش نے عیسائی آبادی سے جزیہ کی وصولی کا ایک معاہدہ بھی کر رکھا ہے تاہم عراق میں داعش کو عیسائیوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں