.

عراق:داعش کا مسیحیوں کے سب سے بڑے قصبے پر قبضہ

کرد فوجی قرہ قوش خالی کرکے چلے گئے ،مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمال میں واقع مسیحی آبادی کے سب سے بڑے قصبے قرہ قوش پر دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا ہے اور ان کی یورش کے بعد کرد فوجی قصبہ چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔داعش نے اس قصبے کے علاوہ عیسائی آبادی والے تین اور قصبوں تل کیف ،برطلہ اور کرملیس پربھی قبضہ کر لیا ہے۔

شمالی شہروں کرکوک اور سلیمانیہ میں چالڈین چرچ کے آرچ بشپ جوزف تھامس نے جمعرات کو فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ''یہ چاروں قصبے مقامی آبادی سے خالی ہوچکے ہیں اور یہ اب جنگجوؤں کے مکمل کنٹرول میں ہیں''۔

ان قصبوں کے مکینوں نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شمالی عراق میں عیسائیوں کی آبادی والا پورا علاقہ اب دولت اسلامی کے جنگجوؤں کے قبضے میں آگیا ہے۔

دولت اسلامی کے جنگجو گذشتہ چند روز سے تل کیف ،برطلہ اور قرہ قوش میں حملے کررہے تھے۔ان قصبوں میں کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کے دستے تعینات تھے اور ان میں مقامی آبادی کے علاوہ شمالی شہر موصل پر داعش کے جنگجوؤں کے قبضے کے بعد دربدر ہونے والے عیسائیوں نے بھی پناہ لے رکھی تھی۔انھیں اب ایک مرتبہ پھر ان شمالی قصبوں سے دربدر ہونا پڑا ہے اور کردستان کی جانب جارہے ہیں۔

داعش کے تازہ حملوں کا نشانہ بننے والے بعض قصبے خودمختار کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل سے پچاس کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہیں۔ سخت گیر گروپ دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے گذشتہ اتوار کو شمالی قصبے سنجار پر البیش المرکہ کے ساتھ لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔یہ قصبہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور یہاں زرتشت مذہب کے ایک قدیمی فرقہ یزیدی کے پیروکار صدیوں سے آباد چلے آرہے تھے۔

شمالی عراق میں داعش کی پیش قدمی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔اجلاس بلانے کی درخواست فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے کی تھی۔انھوں نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ داعش سے درپیش خطرے کے مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔

درایں اثناء فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے عراق میں دولت اسلامی کے جنگجوؤں سے لڑنے والی فورسز کو مدد کی پیش کش کی ہے۔صدر فرانسو نے کردستان کی علاقائی حکومت کے صدر مسعود بارزانی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور انھیں اپنے ملک کی جانب سے داعش کے خلاف لڑائی میں مدد کا یقین دلایا ہے۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے بھی کہا ہے کہ وہ داعش کے خلاف فضائی حملوں پر غور کررہے ہیں۔وہ شمالی عراق میں بے گھر ہونے والے اقلیتی برادری کے چالیس ہزار افراد کو ہنگامی امداد مہیا کرنے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔یہ لوگ عراق کے شمالی قصبے سنجار کے نواح میں واقع پہاڑوں میں پناہ گزین ہیں اور انھیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔ایک امریکی عہدے دار کے بہ قول طیاروں کے ذریعے ان پر فضا سے خوراک کے پیکٹ گرانے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔