.

داعش کا شامی فوج کے اڈے پر حملہ، 41 افراد ہلاک

جنگجوؤں کا تین خودکش حملوں کے بعد شامی فوج کے اڈے پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی صوبے الرقہ میں دولت اسلامی (داعش) کے جہادیوں کے ایک حملے میں ستائیس سرکاری فوجی ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ فوج کی ساتھ جھڑپ میں داعش کے چودہ جنگجو مارے گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ داعش کے تین جنگجوؤں نے پہلے شامی فوج کے بریگیڈ 93 کے اڈے پر خودکش بم حملے کیے تھے۔بعد میں باقی جنگجوؤں نے اس پر دھاوا بول دیا۔انھوں نے فوج کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد اڈے کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ابتدائی تین دھماکوں میں متعدد شامی فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔تاہم اس نے مرنے والے فوجیوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی ہے۔داعش نے پہلے ہی صوبہ الرقہ کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے اور اب اس فوجی اڈے پر اس کے قبضے کے بعد کم وبیش تمام صوبہ اس کے کنٹرول میں آگیا ہے اور صرف طبقہ کا ایک فوجی ہوائی اڈا شامی فوج کے کنٹرول میں رہ گیا ہے۔

قبل ازیں داعش کے جنگجوؤں نے شامی فوج کی سترھویں ڈویژن پر حملہ کیا تھا اور پچاس سے زیادہ فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔انھوں نے بعض فوجیوں کے سرقلم کر کے چوکوں میں لٹکا دیے تھے۔

داعش کے جنگجو 2013ء کے اوائل میں شام کی خانہ جنگی میں کودے تھے۔اس کے بعد سے انھوں نے صوبہ الرقہ کے علاوہ عراق کی سرحد کے ساتھ واقع صوبہ دیرالزور پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ان صوبوں میں اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔