.

جنگ بندی ختم ہوتے ہی غزہ پر اسرائیلی آتش و آہن کی بارش

تل ابیب محاصرہ ختم کرنے کو تیار نہیں، اسلیے توسیع ممکن نہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور حماس کے درمیان تین روزہ جنگ بندی جمعہ کو ختم ہونے کے بعد حماس نے ایک مرتبہ پھر اسرائیلی شہروں پر راکٹ باری کا سلسلہ شروع کر دیا جس کے جواب اسرائیل نے بھی غزہ پر بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا. قاہرہ میں غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کے سوال پر اسرائیل اور حماس کے بالواسطہ طور پر ہونے والے مذاکرات کامیابی کے بجائے ڈیڈ لاک کا شکار ہونے پرغزہ کی پٹی پر آتش و آہن کی بارش شروع ہو گئی۔

جنگ بندی ختم ہونے کے ساتھ ہی اسرائیلی چینل ٹو نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی میزائل سسٹم آئرن ڈوم نے ساحلی شہر عسقلان کی طرف کیا گیا ایک راکٹ حملہ ناکام بنا دیا ہے۔ یہ ساحلی شہر اسرائیل کے جنوب میں واقع ہے۔

اس سے پہلے حماس کے دو سینئیر ذمہ داروں نے میڈیا کا بتایا حماس جنگ بندی کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد اس میں توسیع نہیں کرے گی، کیونکہ اسرائیل غزہ کا محاصرہ ختم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ ایک اور سینئیر رہنما نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے۔

تاہم حماس نے اس امر کی بھی تردید کی ہے کہ جنوبی اسرائیل پر جمعہ کے جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے کوئی راکٹ فائر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ راکٹ غزہ سے متصل علاقے میں گرا ہے۔

واضح رہے اس راکٹ حملے کی حماس نے تردید کی ہے جبکہ کسی دوسرے گروپ نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم اب جنگ بندی کے بعد ایک مرتبہ پھر اسرائیلی بمباری کا خطرہ ہے۔

حماس رہنما نے بتایا قاہرہ میں حماس کے حکام کو مصر کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ سرحد کا محاصرہ ختم کرکے نئے سرحدی بندوبست سے انکار کر دیا ہے۔

آٹھ جولائی سے اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 1900 سے زائد فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں سینکڑوں کی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ اسرائیل کے تین یا چار سویلین کےعلاوہ لگ بھگ 65 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔