.

جاسوسی کی پاداش میں فلسطینی شہریوں کو پھانسی

'سزا پانے والے مزاحمتی کارروائیوں کی خبریں اسرائیل کو دے رہے تھے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ 'حفاظتی کنارہ' کے نام سے جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران متعدد فلسطینی شہریوں کو اسرائیلی فوج کی مدد کی پاداش میں پھانسی دے دی ہے۔

حماس نواز ویب سائٹ 'المجد' نے تنظیم کی سیکیورٹی سروسز کے ایک رکن کے حوالے سے بتایا: "ان جاسوسوں کو مزاحمت سے متعلق معلومات دشمن کو دیتے ہوئے یا مزاحمت کے کام میں دخل اندازی کرتے ہوئے اور دشمن کے لئے لگائی جانیوالی گھات کو ناکارہ بنانے کی کوششیں کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔"

بیان میں پھانسی کی سزا پانے والے افراد کی تعداد سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔

غزہ حکام کا کہنا ہے کہ مصر کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں عبوری طور پر تھمنے والی اس جنگ میں کم از کم 1874 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے 64 فوجی اور تین شہری 8 جولائی سے جاری لڑائی کے دوران فلسطینی علاقوں سے داغے جانے والے راکٹوں کا شکار ہو گئے ہیں۔