.

شمالی عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی لڑاکا طیاروں نے عراق میں انتہا پسند تنظیم 'داعش' کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ جنگی جہازوں سے داعش کے توپخانہ پوزیشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر باراک اوباما نے جمعرات کو عراق میں ضرورت پڑنے پر داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی اجازت دی تھی۔ اوباما نے عراق کی صورتحال کے بارے میں وائٹ ہاوس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ حرکت کرتے سکتے ہیں تاکہ ملک میں امکانی طور پر عوامی بیدخلی کو روکا جا سکے۔" ان کا اشارہ شمالی عراق میں ایک دینی اقلیتی گروپ کی طرف تھا جسے انتہا پسند تنظیم 'داعش' کے جنگجووں نے محاصرے میں لے رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سے اسی وجہ سے ضرورت پڑنے پر محدود پیمانے پر امریکی فوج کو اہدافی حملوں کی اجازت دی ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے محاصرہ زدہ شہریوں کو باہر نکالنے کی خاطر عراقی فوج کی کارروائیوں میں مدد کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے شمالی عراق میں مقامی شہریوں کے لئے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

عراق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق داعش کے مسلح جنگجووں نے موصل کے شمال میں بجلی پیدا کرنے والے ایک اہم ڈیم پر قبضہ کر لیا ہے۔ جمعہ کے روز عراق کے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ داعش تنظیم گذشتہ دو مہینوں سے ملک کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرتی چلی جا رہی ہے۔

نیم خود مختار علاقے کردستان کی وزارت دفاع 'المعروف البشمرکہ' کے ترجمان ھلکورٹ حکمت نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ مسلح جنگجووں نے جمعرات کے شام ہی موصل ڈیم کا کنڑول سنبھال لیا تھا۔

بغداد سے 350 کلومیٹر دور موصل کی اہم گورنری نینوا کی کونسل کے سربراہ بشار کیکی نے تصدیق کی کہ مسلح جنگجووں نے اس ڈیم پر اوائل جون سے ہی قبضہ کر رکھا تھا۔

ادھر برطانیہ نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ عراقی کردستان کے صدر مقام اربیل سے چلے جائیں کیونکہ داعش کے مسلح جنگجو اس علاقے کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔