.

لبنانی فوج جہادیوں کے انخلاء کے بعد عرسال میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوجی شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے عرسال میں جہادیوں کے ساتھ گذشتہ ایک ہفتے سے جاری جھڑپوں کے بعد داخل ہوگئے ہیں۔

لبنان کے ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے کہ ''ہم نے عرسال میں داخل ہونا شروع کردیا ہے اور اس کے مغربی جانب ایک چیک پوائنٹ قائم کردیا ہے۔ہم لمحہ بہ لمحہ پیش قدمی کررہے ہیں۔تاہم ابھی ہم تمام قصبے میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ قصبے سے جنگجوؤں کا مکمل انخلاء ہوگیا ہے''۔ ,

عرسال کے ایک میونسپل کونسلروافق خلاف نے فوجیوں کے قصبے میں داخلے کی تصدیق کی ہے لیکن ابھی وہ پورے قصبے میں نہیں پھیلے ہیں۔صورت حال پُرامن ہے اور فائرنگ یا لڑائی کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار مختلف جہادی گروپوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے لبنان کے مشرقی علاقے میں واقع عرسال اور اس کے نواح میں پولیس اور فوج کی چوکیوں پر حملہ کردیا تھا۔انھوں نے القاعدہ کی شامی شاخ النصرۃ محاذ سے وابستہ ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد وادی بقاع میں دھاوا بولا تھا۔

لبنان کے مقامی علماء کی ثالثی کے نتیجے میں بدھ کی رات فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے پایا تھا جس کے بعد جنگجوؤں نے سات فوجیوں کو رہا کردیا تھا لیکن وہ عرسال سے شامی علاقے کی جانب جاتے ہوئے بعض لبنانی فوجیوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں۔لبنانی آرمی نے گذشتہ روز اپنے بائیس فوجیوں کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی تھی۔