.

جنگجوؤں کا لبنانی قصبے عرسال سے انخلاء،15 فوجی اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جنگجوؤں نے لبنان کے سرحدی قصبے عرسال کو خالی کردیا ہے لیکن وہ وہاں سے شام واپس جاتے ہوئے بعض لبنانی فوجیوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں۔

لبنانی آرمی نے اپنے بائیس فوجی لاپتا ہونے کی تصدیق کی ہے۔بدھ کی رات کو مقامی علماء کی ثالثی کے نتیجے میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے پایا تھا جس کے بعد جنگجوؤں نے سات فوجیوں کو رہا کردیا تھا۔

لبنان کی قومی خبررساں ایجنسی این این اے کا کہنا ہے کہ ان سات فوجیوں کو ایک آرمی آپریشن کے بعد رہا کیا گیا ہے۔تاہم فوج نے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ دوسرے ذرائع کی اطلاع مطابق سنی علماء کے ایک وفد نے عرسال میں لبنانی فوج اور اس کے خلاف گذشتہ ہفتے کے روز سے برسرپیکار جنگجوؤں کے درمیان مصالحتی سمجھوتا کرایا تھا جس میں یہ طے پایاتھا کہ جنگجو اس قصبے کو خالی اور قیدیوں کو رہا کردیں گے۔

علماء کے وفد کے اعلیٰ مذاکرات کار شیخ حسام الغالی نے بدھ کی رات ایک بیان میں بتایا تھا کہ جنگجوؤں نے عرسال سے انخلاء شروع کردیا ہے اور وہ لبنان کی سرحد عبور کرکے شام کی جانب جارہے ہیں۔

ایک اورمذاکرات کار سامح عزالدین نے بتایا کہ ''جنگجوؤں نے چوبیس گھنٹے میں عرسال کو مکمل طور پر خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ان سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ واپس جاتے ہوئے کسی پر گولی نہیں چلائیں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر پورا سمجھوتا ہی خطرے سے دوچار ہوجائے گا''۔

درایں اثناء ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ لبنانی فوج نے سمجھوتے کے تحت رات کو جنگجوؤں کے انخلاء کا جائزہ لیا ہے۔اس ذریعے کے بہ قول جمعرات کی صبح عرسال میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی تھی لیکن اس سے پہلے بدھ کی رات فوج نے ایک کارروائی کے دوران چودہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ سواتین سے جاری خانہ جنگی کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ شامی فوج کے خلاف برسرپیکار اسلامی جنگجوؤں نے لبنان کے سرحدی قصبے عرسال میں دراندازی کی ہے۔لبنان میں پہلے ہی اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے۔لبنان کے اہل سنت شامی فوج کے خلاف باغی جنگجوؤں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ علوی اور شیعہ اپنے ہم مذہب صدر بشارالاسد کے حامی ہیں۔لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ شامی صدر کی حمایت میں پیش پیش ہے اور اس کے جنگجو باغیوں کے خلاف شامی فوج کے شانہ بشانہ جنگ میں شریک ہیں۔