امریکی طیاروں کا عراق میں مسلسل امدادی مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے فوجی طیاروں نے شمالی عراق میں شدت پسند مسلح گروپوں کی دھمکی میں زندگی گزارنے والے عراقی شہریوں تک دوسری رات بھی امداد کی فراہمی جاری رکھی۔

پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا: "یہ ڈراپنگ مختلف ہوائی اڈوں سے امریکی سنٹرل کمانڈ کے علاقے تک کی گئی تھی اور ان میں ایک سی 17 اور دو سی 130 کارگو طیارے شامل تھے جنہوں نے مجموعی طور پر کھانے پینے کی اشیاء کے 72 بنڈل عراقی علاقوں میں گرائے۔"

مال بردار طیاروں کے ساتھ امریکی ائیر کرافٹ کیرئیر یو ایس ایس جارج بش کے دو ایف 18 جنگی طیاروں نے کارگو جہازوں کی حفاظت کے فرائض انجام دیئے۔

جمعہ کے روز امریکی فوج نے کردستان کے صدر مقام اربیل کے قریب دوسری بار فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی کارواں اور دو مارٹر بمبار تباہ ہو گئے۔

یہ فضائی حملے دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کی جانب سے عراق کے سب سے بڑے ڈیم پر قبضہ کئے جانے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد کیے گئے۔

بغداد۔اربیل کا غیر معمولی تعاون

داعش کی جانب سے عراقی کے وسیع علاقے پر قبضے کے بعد بغداد نے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں بشمرکہ کے جنگجوئوں کو جہاز بھر کر اسلحہ فراہم کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایسا عمل پہلے کبھی نہیں دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکی عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہ عراقی سیکیورٹی حکام نے سی 130 کارگو طیاروں میں زیادہ تر چھوٹے ہتھیار بھر کر اربیل بھیج دئیے ہیں۔ امریکی عہدیداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اسلحہ بشمرکہ جنگجوئوں کو داعش سے لڑنے اور انہیں کرد علاقوں سے باہر رکھے میں مدد فراہم کرے گا۔

داعش کے جنگجوئوں کی جانب سے لگ رہا ہے ان کا کرد صدر مقام پر قبضہ کرنے کا ارادہ ہے۔

اربیل کو درپیش خطرات کی وجہ سے کردستان کے رہنمائوں اور عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے درمیان عرصہ دراز سے موجود تنازعہ عارضی طور پر ختم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

اسلحہ کی اس کھیپ کا کرد حکام کی جانب سے یقینی طور پر خیر مقدم کیا جائے گا کیونکہ انہیں پہلے ہی گلہ تھا کہ بشمرکہ کے جنگجو انتہائی کم اور اسلحے سے محروم تھے اور انہیں داعش سے مقابلے میں مشکلات کا سامنا کرنا یقینی تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں