عراق کے محاذ جنگ پر ڈرامائی تبدیلی کا امکان

داعش کے ٹھکانوں پر امریکی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل بابکر زیباری نے کہا ہے کہ پیش آئند چند گھنٹوں کے دوران ملک میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آنے والی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی بمبار طیاروں نے شمالی عراق میں سنجار کے مقام پر دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے بعد محاذ جنگ پر ڈرامائی تبدیلی کا امکان دیکھا جا رہا ہے۔

عراقی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل زیباری نے مزید کہا کہ امریکا کی قیادت میں دولت اسلامی کے زیر قبضہ شہروں میں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ آپریشن کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے عراقی فورسز، کردستان کی البشمرکہ فوج اور امریکی عسکری ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ آپریشن کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں امریکی جنگی طیاروں کے ساتھ عراقی فوج کے ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ عراقی آرمی چیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز امریکی ایف /ای18 طرز کے جنگی جہازوں نے عراق میں داعش کی آرٹلری پر بمباری کرکے اسے تباہ کر دیا تھا۔

قبل ازیں امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ عراق میں امریکی مفادات اور پناہ گزینوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوئے تو مزید فضائی حملے بھی کیے جائیں گے۔ دوسری جانب فرانس نے بھی امریکا کی قیادت میں عراق میں جنگ میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔ فرانسیسی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیرس عراقی عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف امریکا فوجی کارروائی میں معاونت کے لیے تیار ہے۔

ادھر عراق کے سخت گیر شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر نے خبردار کیا ہے کہ دولت اسلامی کے جنگجو دارالحکومت بغداد پر حملے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ بغداد کو بچانے کے لیے داعش کے خلاف جنگ کے لیے تیار رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں