.

اسرائیل ۔ حماس کے درمیان تازہ لڑائی، پانچ فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے درمیاں لڑائی کے تازہ سلسلے میں پانچ مزید فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ جمعہ کے روز عبوری فائر بندی کے خاتمے کے بعد حماس کی طرف سے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں اپنی کارروائی بحال کر دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے ہفتے کے دن غزہ پٹی میں حماس کے کم از کم اکیس ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ غزہ میں طبی ذرائع کے مطابق ان تازہ حملوں میں کم ازکم پانچ فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔

گذشتہ رات سے اب تک اسرائیلی فضائیہ نے غزہ پٹی پر اپنے حملوں میں تین گھروں کے علاوہ تین مساجد کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے گزشتہ رات سے اب تک غزہ پٹی میں حماس کے ٹھکانوں پر کم از کم تیس حملے کیے ہیں۔ تاہم اس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ہفتے کے دن حماس کی طرف سے بھی اسرائیل پر چھ راکٹ فائر کیے گئے تاہم اس کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یوں جمعہ کے دن 72 گھنٹے کی عبوری فائر بندی ختم ہونے کے بعد حماس کی طرف سے کیے گئے مجموعی راکٹ حملوں کی تعداد چوالیس ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فائر بندی کے ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ میں سو حملے کیے ہیں، جن میں دس فلسطینی شہید جبکہ چالیس زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری طرف مقبوضہ مغربی اردن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے مابین تصادم کے نتیجے میں دو فلسطینی مارے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ہبرون میں اس تصادم کے پرتشدد ہونے کے نتیجے میں اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کر دی، جس کے سبب یہ فلسطینی ہلاک ہوئے۔

آٹھ جولائی کو شروع ہونے والے اس تازہ تنازع کے نتیجے میں کم ازکم انیس سو فلسطینی شہید جبکہ 64 اسرائیلی فوجی اور تین اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شہید ہونے والے فلسطینیوں کی بڑی تعداد عورتوں اور بچوں پر مشتمل ہے۔