.

برطانیہ، ایران سے مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے پر تیار

دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے بات چیت آخری مراحل میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں قائم ایران کے قائم مقام سفیر نے بتایا ہے کہ برطانیہ جلد ہی ان کے ملک میں اپنی تمام سفارتی سرگرمیاں بحال کر دے گا۔

ایرانی سفیر محمد حسن حبیب زادہ نے مجلس شوریٰ کے زیر انتطام ویب سائٹ "خانہ ملت" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران اور لندن کے درمیان مکمل طور پر سفارتی تعلقات کی بحالی کےلیے بات چیت آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی دونوں ملک مکمل طور پر سفارتی سرگرمیاں بحال کر دیں گے۔

قبل ازیں ایرانی وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان مرضیہ افحم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سنہ 2011ء میں تہران میں قائم برطانوی سفارت خانے پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

خیال رہے کہ تین سال پیشتر 29 نومبر 2011ء کو ایک ہزار شدت پسندوں اور پاسداران انقلاب کے زیر انتظام "باسیج" ملیشیا کے اہلکاروں نے برطانوی سفارت خانے پر چڑھائی کرکے اس کی توڑ پھوڑ کی تھی جس کے بعد برطانیہ نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے۔ تہران میں سفارت خانے پر حملے کے رد عمل میں برطانیہ نے اپنے ہاں متعین ایرانی سفارت کاربھی ملک سے نکال دیے تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے بات چیت جون 2013ء میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ڈاکٹر حسن روحانی کے صدرمنتخب ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس بات چیت کے بعد دونوں ملکوں نے عارضی طور ایران نے برطانیہ میں اپنا قائم مقام سفیر بھیج دیا تھا۔

گذشتہ پانچ ماہ کے دوران برطانوی سفارت کار اجائے شرما نے تین مرتبہ تہران کا دورہ کیا جس کے بعد برطانیہ نے ایران کے ساتھ مکمل طور پر سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کر دیا تھا۔