.

داعش نے ٹرانسپورٹ کرایوں میں پانچ گنا اضافہ کر دیا

شہری طویل مسافت پیدل چل کر طے کرنے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سرگرم شدت پسند دولت اسلامی عراق وشام [داعش] نے ملک کے نیم خود مختار علاقے کردستان اور بغداد کےدرمیان شہروں پر قبضے کے بعد کرایوں میں بھی پانچ گنا اضافہ کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "داعش" کے زیر قبضہ شہروں میں مسافر بسوں اور مال بردار ٹرکوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے سے سڑکیں سنسان ہو گئی ہیں اور شہری طویل مسافت پیدل چل کر طے کرنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ کردستان اور بغداد کے درمیان جہاں جہاں داعش کا قبضہ ہے وہاں عام شہریوں کے جان ومال بھی غیر محفوظ ہیں۔

کردستان سے بغداد آتے ہوئے شہری پہاڑ اور دشوار گذار راستوں سے پیدل چلنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ داعش کے زیر قبضہ شہروں میں کرائے عام لوگوں کی گنجائش شے بہت زیادہ ہیں۔

ایران اور ترکی بھی کردستان ہی کے راستے اپنا مال بغداد کی منڈیوں تک پہنچاتے رہے ہیں لیکن جب سے داعش نے عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیا ہے بیرون ملک سے ٹریفک کی آمد کا سلسلہ بھی نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ ٹرانسپوٹروں کا کہنا ہے کہ شہری بھاری کرائے ادا کر کے بھی خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ باہر سے آنے والے مال بردار ٹرکوں کو لوٹ لیا جاتا ہے جس کے باعث اب کردستان کے راستے بیرونی ٹریفک رک گئی ہے۔ کردستان اور بغداد کے درمیانی علاقوں پر عراق حکومت کی عمل داری نہ ہونے سے شہری اس لیے بھی پریشان ہیں کہ وہ حکومت کو اس کی شکایت نہیں کر سکتے۔

سڑکیں سنسان، شہر جنگل

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بغداد اور اربیل کے درمیان زمینی رابطے کے لیے استعمال ہونے والی سڑکوں پر چوبیس گھنٹے گاڑیوں کا رش رہتا تھا لیکن داعش کے قبضے کے بعد ہنستے بستے شہر، آبادیاں اور سڑکیں ویران اور سنسان ہیں۔ ایک مقامی ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک ابو ناجی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اربیل سے بغداد تک کئی سو کلومیٹر طویل سڑکیں مکمل طور پر آباد تھیں۔

سڑکوں کے دونوں اطراف کہین بازار، ہوٹل اور کہین گاڑیوں کی ورکشاپس تھیں۔ مسافر گاڑیوں کے لیے کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی کیونکہ ان کی ہر ضرورت راستے ہی میں پوری ہو رہی تھی۔ جب سے داعش کے جنگجوؤں نے کردستان ۔ بغداد شاہراہ پر قبضہ کیا تب سے سڑک کے قریب وجوار میں موجود علاقے خالی ہو چکے ہیں۔ اب لوگ ان سڑکوں پر آتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ رہی سہی کسر داعش کی جانب سے کرایوں میں پانچ گنا اضافے نے نکال دی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک پولیس کہیں بھی نہیں، اس لیے شہری کسی کو اپنی شکایت بھیی نہیں کر سکتے۔

کردستان کے ایک بس ڈرائیور کاکا محمود نے بتایا کہ سڑکوں پر داعش کے کنٹرول کے بعد وہ اربیل سے بغداد نہیں گیا۔ اس نے کہا کہ اربیل سے بغداد تک کرایوں میں پانچ گنا اضافے کے بعد بہت کم لوگ سفر کرتے ہیں۔ مجبوری کے تحت جو لوگ بغداد آتے جاتے ہیں وہ زیادہ تر پیدل سفر کرتے ہیں۔ جب کرایہ اور مسافت کم سے کم رہ جائے تب شہری کسی گاڑی میں سوار ہوتے ہیں۔

اربیل اور بغداد کے حکام نے بھی اس امر کی تصدیق کی کہ داعش نے اپنے زیر انتظام علاقوں میں گاڑیوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کرایوں کے معاملے میں وہ بھی بے بس ہیں کیونکہ جہاں حکومت کی رٹ قائم نہیں وہاں پر جنگجو ہی اپنی مرضی کے کرائے وصول کرتے ہیں۔