.

دیرینہ قومی مطالبات سے دست بردار نہیں ہوں گے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ جماعت فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے لیے مصر کی ثالثی کے تحت جاری مذاکرات میں قومی مطالبات سے کسی صورت میں پیچھے نہیں ہٹے گی۔

حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "پسپائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فلسطینی تحریک مزاحمت پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ ہم نے جنگ بندی کے لیے جو مطالبات پیش کیے ہیں وہ مبنی برحق اور پوری قوم کے دل کی آواز ہیں، ان سے کسی صورت میں دست بردار نہیں ہوں گے"۔

فوزی برھوم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی دُشمن کی دھوکا دہی اور ہٹ دھرمی صہیونیوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔

خیال رہے کہ مصر کی کوشش سے گذشتہ ہفتے فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے درمیان 72 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی طے پائی تھی۔ جمعہ کے روز جنگ بندی کی مدت میں توسیع نہ ہونے پر فریقین نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہین۔

جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی بمباری میں کم سے کم 10 فلسطینی شہید اور 40 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے غزہ کے بالمقابل یہودی آبادیوں پر راکٹ حملوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔