.

قاہرہ:اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بالواسطہ بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اور اسرائیلی مذاکرات کاروں نے سوموار کوغزہ میں جاری تنازعے اور اسرائیل کی ناکا بندی کے خاتمے کے لیے قاہرہ میں مصر کی ثالثی میں بالواسطہ بات چیت شروع کردی ہے۔

فریقین نے اس بات چیت سے قبل غزہ میں بہتر گھنٹے کے لیے نئی عارضی جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے غزہ میں نئی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ طرفین مصر کی ثالثی میں پائیدار جنگ بندی کے لیے موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بین کی مون نے تمام متعلقہ فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ تشدد کے خاتمے کے لیے تعمیری انداز میں کام کریں اور ایسے کسی اقدام سے گریز کریں جس سے دوبارہ تشدد کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہو۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ امن کے قیام کے لیے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کرانے کو تیار ہے تاکہ غزہ کی تعمیر نو اور ترقی کے کام کا آغاز ہوسکے۔

مصر نے اسرائیل اور فلسطینیوں پر زوردیا ہے کہ وہ نئی عارضی فائر بندی کو جامع اور مستقل جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے بروئے کار لائیں۔واضح رہے کہ اسرائیل نے اتوار اور سوموار کی درمیانی شب بارہ بجے سے آیندہ تین دن کے لیےغزہ پر حملے روک دیے تھے اور مصری ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی نئی تجویز سے اتفاق کیا تھا۔

درایں اثناء اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے کے شہر نابلس میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک فلسطینی کو شہید کردیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے تئیس سالہ زکریا الاقرا کو گولی مار دی اور ان کی فائرنگ سے چھے اور فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیلی بلڈوزر نے اقرا کے مکان کے ایک حصے کو بھی مسمار کردیا ہے۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں شدید زخمی چار فلسطینیوں کو علاج کے لیے ترکی کے ایک خصوصی ایمبولینس طیارے کے ذریعے انقرہ منتقل کردیا گیا ہے۔یہ طیارہ تل ابیب کے ہوائی اڈے سے اڑا تھا۔انقرہ کے ہوائی اڈے پر ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو نے تین خواتین اور ایک کم سن زخمی لڑکے کا استقبال کیا۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق اس موقع پر انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر ہم علاج کے لیے قریباً دو سو فلسطینی زخمیوں کو ترکی منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔بعد میں انھوں نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ہم زیادہ سے زیادہ زخمیوں کو علاج کے لیے ترکی لانے کے لیے کوشاں ہیں۔