.

نوری المالکی نے حیدرالعبادی کی نامزدگی مسترد کردی

شیعہ وزیراعظم کا اقتدار چھوڑنے سے انکار،گرین زون میں اپنی حامی فورسز تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے موجودہ وزیراعظم نوری المالکی نے صدر فواد معصوم کی جانب سے نامزد کیے گئے وزیراعظم حیدر العبادی کو مسترد کردیا ہے جس کے بعد خانہ جنگی کا شکار ملک مزید بحران کا شکار ہوگیا ہے۔

نوری المالکی کی جماعت دعوۃ کے ایک رہ نما خلاف عبدالصمد نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا ہے جس میں کہا ہے کہ ''نامزد وزیراعظم حیدرالعبادی اپنی ہی نمائندگی کرتے ہیں''۔ وہ جب یہ بیان پڑھ رہے تھے توتناؤ کا شکار وزیراعظم نوری المالکی ان کے ساتھ کھڑے تھے۔

وہ خود تیسری مدت کے لیے عراق کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں حالانکہ اب کرد اور سنی سیاست دانوں اور شیعہ مذہبی قائدین کے علاوہ امریکا ان کی کھلم کھلا مخالفت کررہا ہے لیکن وہ اس سب کے باوجود برسراقتدار رہنے پر مُصر ہیں اور حکومت چھوڑنے کو تیار نہیں۔

انھوں نے سوموار کو صدر فواد معصوم کی جانب سے عراقی قومی اتحاد کے حیدرالعبادی کو نیا وزیراعظم نامزد کیے جانے کے بعد دارالحکومت بغداد میں ملیشیاؤں اور خصوصی دستوں کو تعینات کردیا ہے جس سے خطرناک سیاسی محاذ آرائی کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔

عراق میں امریکی سفیروں کے مشیر اور ایک سابق عہدے دار علی خضری نے ٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ نوری المالکی نے بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون کو سیل کردیا ہے۔اس علاقے میں غیرملکی سفارت خانے اور وزیراعظم کے دفتر سمیت اہم سرکاری دفاتر واقع ہیں۔

نوری المالکی کی جماعت دعوۃ نے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور ان کے داماد نے کہا ہے کہ اس کو عدالت سے کالعدم قرار دلوادیا جائے گا۔امریکا نے نوری المالکی کو سخت انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ انتقال اقتدار کے عمل میں رخنہ نہ ڈالیں اور اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔

عراق کے سنی اور کرد سیاست دان نوری المالکی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔خود ان کے ہم فرقہ اہل تشیع بھی ان کی مخالفت کررہے ہیں۔ان کے سابقہ اتحادی امریکا اور ایران نے ان پر الزام عاید کیا ہے کہ ان کی اہل سنت کو دیوار سے لگانے کی پالیسیوں کی وجہ سے سنی جنگجوؤں پر مشتمل دولت اسلامی (داعش) نے شمالی عراق میں مسلح شورش بپا کی ہے اور ملک کے پانچ صوبوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔داعش کی گذشتہ دوماہ کے دوران ان فتوحات کے نتیجے میں خود عراق کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور اس کی نسلی ،لسانی اور مذہبی بنیاد پر تقسیم کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔