.

اربیل میں امریکی قونصل خانے سے سفارتی عملے کا انخلاء

بغداد اور اربیل سے امریکی سفارتی عملے کے بعض ارکان کو بصرہ اور عمان منتقل کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں قائم اپنے قونصل خانے اور دارالحکومت بغداد میں سفارت خانے میں تعینات سفارتی عملے کے بعض ارکان کو دوسری جگہوں پر منتقل کردیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے اور اربیل میں قونصل خانے میں تعینات عملے کے بعض ارکان کو جنوبی شہر بصرہ میں قونصل خانے اور اردن کے دارالحکومت عمان میں عراق سپورٹ یونٹ میں منتقل کردیا گیا ہے۔تاہم بغداد میں سفارت خانہ اور اربیل میں قونصل خانہ بدستور کھلے ہیں اور کام کررہے ہیں۔

جون میں امریکا نے بغداد میں اپنے سفارت خانے کے عملے کے بعض ارکان کو اربیل میں منتقل کیا تھا۔یہ شمالی شہر پہلے عراقی دارالحکومت سے زیادہ محفوظ خیال کیا جاتا تھا لیکن اب دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کی شمالی عراق میں حالیہ فتوحات اور کرد علاقوں کی جانب پیش قدمی کے بعد اربیل کو غیر محفوظ خیال کیا جارہا ہے اور وہ اس شہر سے صرف تیس منٹ کی مسافت پر ہیں۔دوروز پہلے داعش کے جنگجوؤں کی اربیل کی جانب توپ خانے سے گولہ باری کے بعد ہی امریکا نے اس کے ٹھکانوں اور توپ خانے پر جنگی طیاروں سے بمباری کی تھی۔

عراق کے شمالی علاقوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران سخت گیر دولت اسلامی کے جنگجوؤں کی پیش قدمی کے پیش نظر امریکی صدر براک اوباما نے جمعرات کو ان پر فضائی حملوں کی اجازت دی تھی لیکن انھوں نے واضح کیا تھا کہ عراق میں برسرزمین کسی لڑاکا امریکی دستے کو نہیں بھیجا جائے گا۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ عراق میں جاری موجودہ بحران کا کوئی امریکی حل نہیں ہے۔