.

اسرائیل نے 72 گھنٹے کے لیےغزہ پر حملے روک دیے

حماس کا مکمل جنگ بندی سے قبل غزہ کی پٹی کی ناکا بندی کے خاتمے پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مصری ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ نئی تجویز سے اتفاق کیا ہے اور حماس اور اسرائیل کے درمیان اتوار اور سوموار کی درمیان شب بارہ بجے سے تین دن کے لیے نئی جنگ بندی ہوگئی ہے۔

مصر نے قبل ازیں اسرائیل اور فلسطینیوں سے کہا تھا کہ گرینچ معیاری وقت کے مطابق 2100( جی ایم ٹی) بجے سے آیندہ 72 گھنٹے کے لیے نئی جنگ بندی کریں۔اسرائیل نے کہا ہے کہ اگر جنگ میں وقفہ ہوتا ہے تو وہ آج سوموار کو اپنے مذاکرات کاروں کو جنگ بندی پر مزید بات چیت کے لیے قاہرہ بھیجے گا۔اس سے پہلے تین دن کے لیے عارضی جنگ بندی جمعہ کو ختم ہوگئی تھی جس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر دوبارہ جارحانہ حملوں کا آغاز کردیا تھا۔

غزہ میں حماس کے ترجمان سامی ابوزہری نے کہا کہ فلسطینی آیندہ بہتر گھنٹے کے لیے جنگ بندی کی نئی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں اور فلسطینی ردعمل کا انحصار اسرائیلی موقف کی سنجیدگی پر ہوگا۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے اطلاع دی ہے کہ فلسطینی مذاکرات کاروں کا وفد قاہرہ میں موجود ہے اور وہ سوموار کو عرب لیگ کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس میں غزہ کے بحران پر تبادلہ خیال کرے گا۔فلسطینی وفد نے اتوار کو اسرائیل کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرنے اور غیر مشروط طور پر مذاکرات کی میز پر نہ آنے پر مصر کی ثالثی میں جاری بات چیت سے اٹھ آنے دھمکی دی تھی۔

ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سربراہ خالد مشعل نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ جنگ بندی کے نتیجے میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کی ناکا بندی کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ یہی ہمارا حتمی مقصد اور ہدف ہے۔اگر اسرائیل جارحیت جاری رکھتا ہے تو پھر حماس دوسرے فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مل کر اس کی میدان جنگ اور سیاسی طور پر مزاحمت کرے گی اور وہ تمام ممکنات کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

اسرائیلی حملے

اتوار کو اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی پر فضائی حملے میں ایک سترہ سالہ لڑکا اور ایک ادھیڑ عمر شخص شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔غزہ کی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان اشرف القدرہ نے ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیارے نے وسطی قصبے دیرالبلاح کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا تھا۔ان دو فلسطینیوں کی شہادت کے بعد 8 جون سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1891 ہوگئی ہے۔بعض دوسرے ذرائع کے مطابق یہ تعداد قریباً دوہزار ہوچکی ہے۔

درایں اثناء مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے نواحی علاقے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک گیارہ سالہ فلسطینی لڑکے کو گولی مار کر شہید کردیا ہے۔اسرائیلی فوج نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس نے متشدد فلسطینی کو روکنے کے لیے گولی چلائی تھی اور لڑکے کی موت کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

اس شہید لڑکے خالد محمد العناتی کے خاندان نے اسرائیلی فوج کے اس موقف کو غلط قرار دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ الخلیل کے نواح میں واقع الفوار مہاجر کیمپ کی ایک نکڑ میں اپنے گھر کے باہر کھیل رہا تھا اور اس دوران وہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے چلائی گئی گولی کا نشانہ بن گیا ہے۔