.

عراقی قومی اتحاد کے حیدرالعبادی نئے وزیراعظم نامزد

موجودہ وزیراعظم نوری المالکی نے صدر فواد معصوم کا اقدام مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صدر فوادمعصوم نے پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر حیدرالعبادی کو وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے جبکہ موجودہ وزیراعظم نوری المالکی نے اس اقدام کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

العربیہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق عراقی قومی اتحاد نے حیدرالعبادی کو وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔اس فیصلے کے فوری بعد صدر فواد معصوم نے ان کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے انھیں قومی اتحاد کی نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔

اس اعلان سے چندے قبل امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی کو خبردار کیا تھا کہ وہ رخنہ اندازی سے باز رہیں۔انھوں نے عراقی صدر فواد معصوم کی حمایت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ صرف وہی عراقی آئین کی پاسداری کے ذمے دار ہیں۔

جان کیری نے آسٹریلوی شہر سڈنی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی عراقی حکومت کا قیام ملک میں استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔انھوں نے تمام عراقیوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ طے شدہ آئینی عمل سے انحراف کرتے ہیں تو انھیں بہت کم عالمی حمایت حاصل ہوگی۔

جان کیری کے اس بیان کے بعد امریکا نے موجودہ وزیراعظم نوری المالکی کے مقابلے میں فواد معصوم کی حمایت میں بیان جاری کیا ہے۔نوری المالکی نے خود کو نامزد نہ کرنے پر صدر فواد معصوم کے خلاف آئینی عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا اور ان پر دو مرتبہ آئین کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان میری حرف نے ایک بیان میں کہا کہ ''امریکا عراقی آئین کے ضامن اور محافظ کی حیثیت سے صدر فواد معصوم کی مکمل حمایت کرتا ہے اور یہ توقع کرتا ہے کہ وہ تمام سیاسی دھڑوں پر مشتمل حکومت قائم کریں گے''۔

حیدرالعبادی کی نامزدگی سے پہلے سے بحران کا شکار عراق میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا کیونکہ نوری المالکی تیسری مدت کے لیے وزارت عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں لیکن عراقی سیاست دان ،مذہبی قائدین اور امریکا ان کی مخالفت کررہے ہیں اور بہت سے عراقی انھیں ہی شمالی عراق میں جاری دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں کی شورش کا ذمے دار قرار دیتے ہیں۔