.

ایچ آر ڈبلیو: مصر میں منظم ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ

یو این انسانی حقوق کونسل ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے عالمی کمیشن مقرر کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے کہا ہے کہ مصر میں گذشتہ سال دو احتجاجی کیمپوں میں سیکڑوں افراد کی ہلاکتوں کا حکم اعلیٰ عہدے داروں نے دیا تھا اور یہ انسانیت کے خلاف جرم تھا۔تنظیم نے اقوام متحدہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے منگل کو ایک سو اٹھاسی صفحات کو محیط ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں اقوام متحدہ پر زوردیا ہے کہ وہ گذشتہ سال مصر کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کی ہلاکتوں کے صرف چھے واقعات کی تحقیقات کرے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قاہرہ کے رابعہ العدویہ چوک میں اخوان المسلمون کے احتجاجی دھرنے کو ختم کرانے کے لیے مصری سکیورٹی فورسز نے آٹھ سو سترہ مظاہرین کو ہلاک کردیا تھا۔رپورٹ میں مظاہرین کی ان ہلاکتوں کا موازنہ 1989ء میں چین میں تیانامن اسکوائر میں حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتوں سے کیا گیا ہے۔

ایچ آر ڈبلیو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے رپورٹ کے ساتھ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''رابعہ اسکوائر میں مصری سکیورٹی فورسز نے حالیہ تاریخ میں ایک دن میں دنیا میں مظاہرین کا سب سے بڑا قتل عام کیا تھا''۔

''یہ محض طاقت کے بے مہابا استعمال یا کمزور تربیت کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک متشدد کریک ڈاؤن تھا جس کی مصری حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔اس کریک ڈاؤن کے ذمے دار بعض عہدے دار ابھی تک مصر میں اقتدار میں ہیں اور انھوں نے بہت سے سوالوں کے جواب دینا ہیں''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

مصری حکومت کے ایک عہدے دار نے رابطہ کرنے پر اس رپورٹ کی اشاعت تک کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔مصری عہدے دار ماضی میں یہ کہتے رہے ہیں کہ بعض مظاہرین مسلح تھے اور انھوں نے پولیس اور فوج پر فائرنگ کی تھی۔

اس وقت کے آرمی چیف اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی سمیت بعض عہدے داروں نے اخوان المسلمون کے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف دھرنوں کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی ہدایت کی تھی کیونکہ ان کے بہ قول ان سے ٹریفک کے بہاؤ میں خلل پڑرہا تھا اور کاروبار زندگی متاثر ہورہا تھا۔

مصر کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ 14 اگست 2013ء کو اخوان کے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے کارروائیوں کے دوران ملک بھر میں باسٹھ سکیورٹی افسر مارے گئے تھے اور گذشتہ ایک سال کے دوران حملوں میں دو سو پچھہتر پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں یہ تسلیم کیا ہے کہ مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا تھا اور پیٹرول بم پھینکے تھے جبکہ چند ایک نے فائرنگ بھی کی تھی لیکن اس سب کے باوجود ریاست کی جانب سے فورس کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کا جواز مہیا نہیں کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''وسیع پیمانے پر منظم ہلاکتوں کی نوعیت کے پیش نظر اور شواہد کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک پالیسی کا حصہ تھا جس کے تحت زیادہ تر غیرمسلح مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال کیا گیا اور یہ ہلاکتیں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں''۔

رپورٹ میں دنیا کی حکومتوں پر زوردیا گیا ہے کہ وہ قاہرہ کی اس وقت تک فوجی امداد بند کردیں جب تک وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات نہیں کرتا۔رپورٹ میں اقوام متحدہ کے تحت جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مصر میں 30 جون 2013ء کے بعد مظاہرین کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ایک بین الاقوامی کمیشن قائم کرے۔

ایچ آر ڈبلیو نے عبدالفتاح السیسی کو آرمی کی چین آف کمان کے سربراہ کی حیثیت سے اس تشدد کا ''مرکزی معمار'' قرار دیا ہے۔تنظیم نے رپورٹ میں قاہرہ کے ایک سوبائیس عینی شاہدین سے انٹرویوز اور ویڈیو فوٹیج کے جائزے کو شامل کیا ہے اور ان کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے رابعہ العدویہ چوک میں دھرنا دینے والے مظاہرین کو کوئی محفوظ راستہ نہیں دیا تھا بلکہ بارہ گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنے والوں پر بھی فائرنگ کی تھی۔

ایچ آر ڈبلیو نے سوموار کو مصر پر اپنے خلاف تنقید کو خاموش کرانے کی کوشش کا الزام عاید کیا تھا۔تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر روتھ اور ان کے ایک ساتھی کو قاہرہ کے ہوائی اڈے پر روک لیا گیا تھا اور پھر انھیں رپورٹ کے اجراء کے لیے ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ائیرپورٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں سکیورٹی حکام کی ہدایات پر واپس بھیجا گیا تھا۔

یادرہے کہ مصر کے انسانی حقوق کے قومی ادارے نے سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کو گذشتہ سال اگست میں معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے دارالحکومت قاہرہ میں احتجاجی دھرنے کو ختم کرانے کے لیے کارروائی کے دوران سیکڑوں افراد کی ہلاکتوں کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔

مصر کی قومی کونسل برائے انسانی حقوق نے کچھ عرصہ قبل 14 اگست 2013ء کو قاہرہ میں جامعہ رابعہ العدویہ چوک میں اخوان المسلمون کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا تھا کہ احتجاجی دھرنا ختم کرانے کے لیے کارروائی کے دوران آٹھ پولیس اہلکاروں سمیت چھے سو بتیس افراد مارے گئے تھے۔

پولیس اور فوج نے برطرف صدر کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں مصر کی جدید تاریخ میں مظاہرین کے قتل عام کا بدترین سانحہ رونما ہوا تھا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کے دوران عام شہری یعنی مظاہرین گولیوں کا نشانہ بن گئے تھے لیکن کونسل نے واضح طور پر یہ نہیں کہا تھا کہ ان پرامن مظاہرین کو کس نے قتل کیا تھا۔البتہ اس نے پولیس پر طاقت کے غیر متناسب استعمال کا الزام عاید کیا تھا۔

اس رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ دھرنے کے دوران مسلح جھڑپیں بعض مسلح عناصر کی جانب سے اچانک فائر کھولے جانے کے بعد شروع ہوئی تھیں۔اس فائرنگ سے مظاہرین کو منتشر ہونے کی ہدایت دینے والا ایک افسر مارا گیا تھا۔سکیورٹی فورسز نے اس کے بعد دھرنے میں شریک مظاہرین کو منتشر ہونے کے لیے صرف پچیس منٹ کا وقت دیا تھا جو کونسل کے مطابق ناکافی تھا اور سکیورٹی فورسز اس مختصر وقت میں ہزاروں مظاہرین کو محفوظ راستہ دینے میں ناکام رہی تھیں۔کونسل کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون اور سکیورٹی فورسز دونوں نے اس کی تحقیقات کے دوران تعاون نہیں کیا تھا۔