.

غزہ یو این کمیشن کی تشکیل پر اسرائیل چراغ پا

کمیشن کے سربراہ پر اسرائیل کا مخالفت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے ولیم شاباس کو غزہ پر مسلط اسرائیلی جنگ سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ فلسطینی حکام نے امید ظاہر کی کہ یہ تحقیقات اسرائیلی جنگی جرائم کو ثابت کر دیں گے۔

اس تین رکنی کمیشن کے سربراہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ولیم شباس ہیں اور تیسرے رکن سینی گال سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ماہر داؤدو دائن ہیں۔

غزہ کمیشن کی تشکیل پر اسرائیلی واویلے کے فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کے تشکیل کردہ اس کمیشن پر بہت زیادہ اعتماد ہے۔

ریاض منصور نے وینزویلا کے سرکاری دورے کے موقع پر دارلحکومت میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ"ہمیں پورا اعتماد ہے کہ یہ کمیشن اسرائیل کے جنگی جرائم کو ثابت کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گا۔"

کمیشن کی سربراہی کرنے والے کینیڈین وکیل شاباس کو اسرائیل میں نام نہاد یہودی ریاست کے مخالف کے طور ہر جانا جاتا ہے اور وہ ماضی میں کئی مرتبہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روبرو پیش کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان ایغال بالمور کا کہنا ہے" یو این کمیشن نے اسرائیل مخالف نتائج رقم کر دئیے ہیں بس اب ان پر دستخط ہونا باقی ہیں۔ بالمور کا کہنا تھا: "اس کمیشن کے لئے اہم بات انسانی حقوق نہیں بلکہ حماس جیسی دہشت گرد تنظیموں کے حقوق ہیں۔"

مگر اسرائیلی میڈیا کے ساتھ انٹرویوز میں شاباس نے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ"میں نے اسرائیلی جامعات میں تواتر سے لیکچر دئیے ہیں، میں اسرائیلی قانون کے ریویو کے لئے قائم ایڈیٹوریل بورڈ کا ممبر ہوں۔ اگر میں اسرائیل کے قیام کا مخالف ہوتا تو پھر میں ایسے اقدامات کیوں اٹھاتا؟"

انہوں نے بالمور کے الزام کو چیلنچ کیا کہ جس کے مطابق کمیشن نے اپنے فیصلے پہلے ہی تیار کر رکھے ہیں۔ "جہاں تک میرا تعلق ہے ابھی کوئی بھی فیصلہ نہیں لکھا گیا ہے۔ انہی فیصلوں کی تلاش میں اس تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینی جنگجوئوں کی جانب سے کئے جانے والے حملوں کی بھی تفتیش کریں گے۔ " ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کی جانب سے رپورٹ مارچ 2015 میں شائع کی جائے گی۔

اسرائیل نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اسے اپنی سالانہ ملاقاتوں میں صرف اسرائیل پر ہی تنقید کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی اسرائیل مخالف قراردادیں پاس کی ہیں۔