.

نوری المالکی کو جماعت نے بھی تنہا چھوڑ دیا

سیستانی نے نئے وزیر اعظم حیدر العبادی کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں طویل سیاسی بحران کے بعد سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم نوری المالکی کی جماعت 'الدعوہ' نے بھی ان سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔

دوسری جانب ملک کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ السید علی السیستانی نے نو منتخب وزیر اعظم حیدر العبادی کی حمایت کی ہے جبکہ العبادی نے نامزدگی کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق نوری المالکی کی جماعت کےاقتدار سے دستبرداری کے اعلان کے بعد وہ مزید تنہا ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل حیدر العبادی کی نامزدگی پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کی حمایت کی تھی۔ مرشد اعلیٰ کی جانب سے العبادی کی حمایت پر نوری المالکی سخت مشکل سے دوچار ہو گئے تھے۔ شاید ان کے لیے ایران کی اس انداز میں نئے وزیر اعظم کی حمایت غیر متوقع تھی۔

رپورٹ کے مطابق نوری المالکی کی جماعت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اور ملک کے سرکردہ بزرگ شیعہ رہ نما علی السیستانی کے درمیان بھی رابطہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل الدعوہ پارٹی نوری المالکی کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنانے پر اصرار کرتی چلی آ رہی تھی، تاہم آمرانہ پالیسیوں پر چلنے والے المالکی کو ملک کے سنی مسلک کے لوگوں سے امتیازی سلوک روا رکھنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رواں ہفتے رکن پارلیمنٹ حیدر العبادی کو نیا وزیر اعظم نامزد کیے جانے کے بعد یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شورش کے شکار ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معتبر شیعہ رہ نما علی السیستانی کے علاوہ مقتدیٰ الصدر کی جانب سے بھی العبادی کی نامزدگی کو سراہا گیا ہے۔

جماعت الدعوہ اور علی السیستانی کے درمیان مراسلت میں بھی ملک میں اتفاق رائے سے نئی حکومت کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے۔ علی السیستانی نے نوری المالکی کو اپنے جوابی پیغام میں کہا ہے کہ وہ عراق میں ایک ایسی شخصیت کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر دیکھنے کے خواہاں ہیں جسے تمام طبقات کی حمایت حاصل ہو۔ حیدر العبادی اس باب میں مناسب شخصیت ہیں۔ انہیں نہ صرف اندرون ملک سیاسی حلقوں کی حمایت حاصل ہے بلکہ بیرونی سطح پر بھی ان کی نامزدگی کو سراہا گیا ہے۔

المالکی کی جماعت کے ایک سرکردہ لیڈر صلاح عبدالرزاق نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی پارٹی کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد جلد نامزد وزیراعظم حیدر العبادی اور علی السیستانی سے ملاقات کرے گا۔ انہوں نے ان افواہوں کی تردید کہ الدعوہ پارٹی حیدرالعبادی کی جگہ کسی دوسرے امیدوار کو لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نامزد وزیر اعظم العبادی بھی نئی حکومت کی تشکیل پر حمایت کے حصول کے لیے علی السیستانی سے جلد ملاقات کریں گے۔