.

پوپ کی کوریا آمد پر شمالی کوریا کے تین میزائل فائر

امریکا اور جنوبی کوریا کی متوقع جنگی مشقوں کے خلاف رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچیس برسوں کے دوران پہلی مرتبہ مسیحی پوپ فرانسس کے کسی ایشیائی ملک کے دورے پر آمد کے موقع پر شمالی کوریا نے کم فاصلے تک مارکرنے والے تین میزائل فائر کیے ہیں۔

کم فاصلے تک مار کرنے والے یہ میزائل ملٹی پل لانچرز کی مدد سے شمالی کوریا کے بندر گاہی شہ روانسن سے فائر کیے گئے ہیں۔ پوپ فرانسس جنوبی کوریا کے دورے پر جمعرات کے روز پہنچے ہیں۔ اس موقع پر فائر کیے جانے والے میزائلوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میزائلوں نے تقریبا 220 کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کیا اور بعد کورین جزیرہ نما کے نزدیک سمندر میں گر گئے۔

فوجی ذرائع کے مطابق تیسرا میزائل پوپ کے پہنچنے سے صرف 35 منٹ پہلے فائر کیا گیا۔ پوپ کو جنوبی کوریا کے ایک فوجی اڈے پر اترنا تھا۔ واضح رہے پوپ فرانسس پانچ روزہ دورے پر جنوبی کوریا پہنچے ہیں۔

امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگی مشقوں کا آغاز پیر سے ہونے جا رہا ہے۔ امریکا اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ ان کی جنگی مشقیں دفاعی نوعیت ہیں۔ لیکن شمالی کوریا ان جنگی مشقوں پر احتجاج کر رہا ہے کہ یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی نہیں بلکہ جنگ کی ریہر سل کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب پوپ فرانسس جب جنوبی کوریا پہنچے تو ان کا سرخ قالینوں پر والہانہ استقبال کیا گیا۔ وہ کوریا کے صدر کے علاوہ مقامی کیتھولک مسیحیوں سے ملاقات کریں گے۔

اپنے دورے کے دوران وہ 124 کورین شہداء کے لیے خوشیوں کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ مسیحی برادری میں پوپ کی آمد کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔