.

اقوام متحدہ کی عراق میں اعلیٰ سطح کی ایمرجنسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے خانہ جنگی کا شکار عراق میں انسانی بحران کے پیش نظر اعلیٰ سطح کی ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے کہا ہے کہ جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی شمالی عراق میں شورش کے بعد اقلیتی یزیدی برادری سمیت ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ نے اتنی زیادہ تعداد میں لوگوں کی جانوں کو درپیش خطرے کے پیش نظر اعلیٰ سطح کی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے عراق میں خانہ جنگی کی صورت حال اور اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کے بے گھر ہونے کے بعد لیول 3 کی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔عالمی ادارے کے خصوصی نمائندے نیکولے مملدینوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اضافی فنڈز ،اشیاء اور اثاثے بروئے کار لائے جاسکیں گے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق کے نامزد وزیراعظم حیدرالعبادی کی حمایت کردی ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ تمام طبقوں پر مشتمل حکومت بنائیں گے جو داعش کی شورش پر قابو پاسکے۔

بے گھر یزیدیوں کی تعداد

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ عراق کے شمالی قصبے سنجار کے نواح میں واقع پہاڑ پر پھنسے ہوئے بے گھر یزیدیوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور توقع سے زیادہ بہتر حالات میں رہ رہے ہیں جبکہ پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ وہاں ہزاروں کی تعداد میں یزیدی موجود ہیں۔

پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ امریکی فوجیوں اور امریکا کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی نے سنجار کے پہاڑی علاقے میں طیاروں کے ذریعے جا کر صورت حال جائزہ لیا ہے اور وہاں مجموعی طور پر بیس سے بھی کم یزیدی موجود تھے اور انھیں وہاں سے ہیلی کاپَٹروں کے ذریعے اربیل منتقل کردیا گیا ہے۔اس سے قبل ہزاروں یزیدی کردستان کی جانب چلے گئے تھے۔

پڑوسی ملک ترکی نے عراقی سرحد کے ساتھ جنوب مشرقی صوبے سرناک میں قریباً دو ہزار یزیدیوں کو ایک خیمہ بستی میں پناہ دی ہے۔انھیں دن میں تین وقت کا کھانا دیا جارہا ہے اور کیمپ میں ان کی صحت کا خیال رکھا جارہا ہے۔

برطانیہ اور آسٹریلیا نے یزیدی برادری کے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے امدادی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور آسٹریلوی طیارے نے اعلیٰ توانائی کے حامل بسکٹوں کے 150 باکس اور پانی والی بوتلوں کے 340 باکس گرائے ہیں جو سینتیس سو افراد کے لیے 24 گھنٹے کے لیے کافی ہیں۔

آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ جب تک سنجار کے پہاڑ میں پھنسے ہوئے یزیدیوں کو سکیورٹی کو یقینی نہیں بنا لیا جاتا،اس وقت امدادی سامان گرانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

عراق کے شمالی علاقے میں یزیدی برادری کے سنجار کے پہاڑ پر پھنسے ہوئے یزیدیوں کے بارے میں اب تک متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔گذشتہ ہفتے ایک یزیدی رکن پارلیمان ویان دخیل نے بتایا تھا کہ بیس سے تیس ہزار یِزیدی سنجار کے پہاڑ سے شام فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے اور انھیں کرد سکیورٹی فورسز کے اہلکار واپس خودمختار کردستان کے علاقے میں لے آئے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے تین اگست کو شمالی قصبے سنجار پر البیش المرکہ کے ساتھ لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔یہ قصبہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور یہاں زرتشت مذہب کے قدیمی فرقہ یزیدی کے پیروکار صدیوں سے آباد چلے آرہے تھے۔یزیدی نسلی طور پر کرد ہی ہیں لیکن وہ مذہبی لحاظ سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔