.

شامی فوج کا دمشق کے نواح میں قصبے پر قبضہ

اسدی فوج کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مدد سے کارروائی میں باغی جنگجو پسپا ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مدد سے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع ایک قصبے پر اسلام پسند باغیوں سے لڑائی کے بعد دوبارہ قبضہ کرلیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ دمشق کے ہوائی اڈے کے نزدیک مشرقی غوطہ کے علاقے میں واقع قصبے ملیحہ کا صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے محاصرہ کررکھا ہے اور اس نے اہم پیش قدمی کی ہے۔

دمشق کے قلب سے صرف سات کلومیٹر دور واقع اس قصبے پر گذشتہ ایک سال سے شامی باغیوں نے قبضہ کررکھا تھا۔انھوں نے وہاں اپنا فوجی اڈا قائم کررکھا تھا جہاں سے وہ دارالحکومت پر مارٹر گولے فائر کیا کرتے تھے۔

ٹی وی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے یونٹوں نے ملیحہ میں اپنی کارروائِیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔انھوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے،دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو ٹھکانے لگا دیا ہے اور قصبے کے شمال میں واقع فارموں میں موجود ان کے بچے کھچے ساتھیوں کا پیچھا کررہے ہیں۔

تاہم اس رپورٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔واضح رہے کہ شامی حکومت اور سرکاری ذرائع ابلاغ باغی جنگجوؤں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔

شامی فوج نے حزب اللہ کی مدد سے دمشق کے آس پاس کے بہت سے علاقوں سے باغیوں کو لڑائی کے بعد پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے اور اب وہ شام کے وسطی اور لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقوں میں اپنا کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔