.

داعش ٹھکانے، امریکی جیٹ اور ڈرونز کی شدید بمباری

یورپی یونین کا عراقی کردوں کو جدید اسلحہ دینے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے جیٹ اور ڈرون طیاروں نے شمالی عراق میں انتہاپسند داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے ہوئے اس کی بکتر بند اور بعض دوسری مسلح گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین کارروائی امریکی صدر اوباما کے اس بیان کے بعد سامنے آئِی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی طیاروں نے اپنے ابتدائی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

تاہم امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکا ابھی اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید کارروائی کرے گا۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق اس تازہ کارروائی میں ڈرون طیاروں اور بمبار جیٹ طیاروں نے حصہ لیا ہے۔ پہلی کاارروائی میں داعش کے دو مسلح ٹرکوں کو نشانہ بنایا گیا جن سے کرد فورسز پر فائرنگ کی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق دوسری ائیر سٹرائیک تیس منٹ کے بعد کی گئی اور ایک ایم اے آر پی کو نشانہ بنایا گیا ۔ اسی دوران امریکا کی جانب سے عراقی فوج کو فراہم کیے گئے آرمرڈ ٹرکوں میں سے ایک کو نشانہ بنایا گیا جو ان دنوں داعش کے زیر قبضہ تھا۔ بمباری کے بعد تمام امریکی طیارے بحفاظت اپنے اڈوں پر پہنچ گئے ہیں۔

دوسری جانب اطلاع ملی ہے کہ یورپی یونین نے عراقی کردوں کو جدید ترین اسلحے دینے کا عندیہ دیا ہے۔ یورپی یونین کے ایک ذمہ دار نے برسلز میں جمعہ کے روز بتایا یونین کے موسم گرما کے لیے ہونے والے اپنے اجلاس میں متفقہ منظوری کے ساتھ عراقی کردوں کو اسلحہ دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

واضح رہے جولائی سے داعش نے شمالی عراق کے معقول حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ داعش کی وجہ سے مسیحی اور یزیدی اقلیتیں سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گذر رہا جب لوگ نہ مارے جا رہے ہوں۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے اسی ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ انہوں نے یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرائن آشٹن کو لکھا ہے کہ لوگ مر رہے ہیں اس لیے آپ اپنی چھٹیوں سے واپس آ جائیں۔
اٹلی کی وزیر خارجہ نے فرانس کی درخواست پر ہنگامی طور پر طلب کردہ اجلاس میں کہا '' ہم فوجی مداخلت کی بات نہیں کرتے صرف امداد کی بات کرتے ہیں۔ خیال رہے اٹلی کی وزیر خارجہ کانام اس فہرست میں شامل ہے جو امکانی طور پر اسی سال کیتھرائن آشٹن کی جگہ لے سکتے ہیں۔