شامی فوج نے دو سال بعد مشرقی الغوطہ واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے لبنانی شیعہ میلشیا حزب اور دوسرے جنگجو گروپوں کی مدد سے دمشق کے نواحی علاقے مشرقی الغوطہ کے ملیحہ قصبے کا دو سال بعد قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشرقی الغوطہ کے ملیحہ قصبے کا شامی فوج نے 135 دن مسلسل محاصرہ کیے رکھا۔ اس دوران شہر میں تباہ کن بمباری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں قصبہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ شامی فوج اور اس کے وفادار جنگجو گروپوں کے مشترکہ حملوں کے نتیجے میں چند روز قبل باغی ملیحہ سے نکل گئے تھے۔

گذشتہ روز ملیحہ قصبے کا قبضہ واپس لینے سے قبل سرکاری فوج نے باغیوں کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے دسیوں میزائل حملے کیے۔ فضائی حملوں میں ملیحہ اور اس کے مضافات میں بھی باغیوں اور منحرف فوجیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی گئی۔

خیال رہے کہ ملیحہ، دمشق کے مضافات میں اہم تزویراتی مقام سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت دمشق سے صرف پانچ کلومیٹر کی دوری پر واقع یہ قصبہ دمشق بین الاقوامی ہوائی اڈے سے متصل ہے اور اس سے کچھ ہی فاصلے پر جرمانا اور مرج کے مقامات پر اسد نواز لبنانی حزب اللہ اور دیگر حکومت نواز جنگجو گروپوں کے مراکز قائم ہیں۔ یوں دفاعی اعتبار سے یہ اہم ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔

درایں اثناء دمشق کے مضافات میں دیر العصافیر کے مقام پر شامی فوج نے وحشیانہ بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 20 عام شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ساحلی شہر حلب میں شامی فوج نے عام شہریوں پر نئے بیرل بم حملے کیے ہیں، جن میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ درعا شہر اور اس کے مضافات، القنیطرہ کی مجدولیا کالونی اور حمص میں بھی شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ ادلب میں باغی فوجیوں نے اسد نواز فوج کا ایک بم دھماکے سے اڑا دیا۔ شمال مشرقی شہر حلب میں صوران کے مقام پر شامی فوج اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق کے جنگجوؤں کے درمیان بھی جھڑپیں جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں