عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اقتدار سے دستبردار

نامزد وزیراعظم حیدر العبادی اور عراق کے اتحاد کے حق میں فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی اپنے جانشین نامزد وزیر اعظم حیدر العبادی کے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں۔

نوری المالکی نے جمعرات کی شب بغداد میں ایک نشری تقریر میں اقتدار اور تیسری مدت کے لیے وزارتِ عظمیٰ سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔اس موقع پر ان کے انتخابی اتحاد اسٹیٹ آف لا کی سرکردہ شخصیات اور نامزد وزیراعظم حیدرالعبادی بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔انھوں نے کہا کہ ''وہ عراق کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے بعد آنے والے وزیراعظم کی توثیق کررہے ہیں''۔

انھوں نے کہا: ''میں آج آپ کے سامنے سیاسی عمل کو بآسانی رو بہ عمل ہونے اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اپنے بھائی ڈاکٹر حیدر العبادی کے حق میں وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہو رہا ہوں''۔

انھوں نے اس تقریر میں وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے دور اقتدار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عراق کے دروازے عالمی برادری کے لیے کھول دیے تھے۔انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ عراق کو اس وقت دہشت گردی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں قائم ہونے والی حکومت میں کوئی عہدہ قبول نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''میں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور میں کسی خونریزی کا سبب نہیں بنوں گا۔میں عراق اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے ایک لڑاکا سپاہی رہوں گا''۔

عراق کے صدر فواد معصوم نے گذشتہ سوموار کو مالکی کی جماعت دعوۃ ہی کے رہ نما حیدرالعبادی کو وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی لیکن دومرتبہ وزیراعظم رہنے والے نوری المالکی نے صدر کے اس اقدام کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور اقتدار چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔

انھوں نے اس کے خلاف عراق کی وفاقی عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا اور بدھ کو ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ ان کی حکومت اپنا کام جاری رکھے گی اور وفاقی عدالت کے فیصلے تک اس کی جگہ کوئی حکومت قائم نہیں ہوگی۔

اس دوران امریکا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی حمایت حیدر العبادی کے پلڑے میں ڈال دی تھی جو اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ تہران اپنے دیرینہ اتحادی نوری المالکی کے ساتھ نہیں ہے۔ایران کے علاوہ سعودی عرب نے بھی نامزد عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

مالکی خود تیسری مدت کے لیے عراق کے وزیراعظم بننا چاہتے تھے حالانکہ کرد اور سنی سیاست دانوں اور شیعہ مذہبی قائدین کے علاوہ امریکا ان کی کھلم کھلا مخالفت کررہا تھا۔وہ اس سب کے باوجود حکومت چھوڑنے کو تیار نہیں تھے مگر جمعرات کو سرکردہ شیعہ مذہبی شخصیت آیت اللہ علی السیستانی کی جانب سے دعوۃ پارٹی کے نام ایک خط نے ان کے اقتدار کی راہ مسدود کردی اور انھوں نے بادل نخواستہ حکومت چھوڑنے ہی میں اپنی عافیت جانی ہے۔اس خط میں ان کے بجائے حیدرالعبادی کی حمایت کی گئی تھی۔

نوری المالکی کے سابقہ اتحادی امریکا اور ایران نے ان پر الزام عاید کیا تھا کہ ان کی اہل سنت کو دیوار سے لگانے کی پالیسیوں کی وجہ سے سنی جنگجوؤں پر مشتمل دولت اسلامی (داعش) کو شمالی عراق میں مسلح شورش بپا کرنے کا موقع ملا اور اس نے ملک کے پانچ صوبوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرلی ہے۔داعش کی گذشتہ دوماہ کے دوران ان فتوحات کے نتیجے میں خود عراق کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور اس کی نسلی ،لسانی اور مذہبی بنیاد پر تقسیم کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں