مرسی حامی اور مخالفین میں جھڑپیں، 2 افراد ہلاک

قاہرہ میں برطرف صدر کے حامیوں کے حکومت مخالف مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان نمازجمعہ کے بعد مظاہروں کے دوران جھڑپیں جن کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور کم سے کم دس زخمی ہوگئے ہیں۔

کالعدم اخوان المسلمون کے کارکنان اور ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے جمعرات اور جمعہ کو سانحہ رابعہ اسکوائر کی پہلی برسی کے موقع پر قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں لیکن پولیس نے انھیں بزور طاقت منتشر کرنے کی کوشش کی ہے۔گذشتہ روز قاہرہ میں ان احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آج قاہرہ کے مغربی علاقے فیصل میں ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے نماز جمعہ کے بعد مظاہرہ کیا۔اس دوران ان کی اپنے مخالفین سے جھڑپ ہوگئی جس میں دو افراد مارے گئے ہیں۔ایک سکیورٹی عہدے دار کا کہنا ہے کہ مرسی کے حامیوں نے دکانوں اور رہائشی علاقے کے نزدیک مظاہرے کے دوران آتش بازی کی ہے جس کی وجہ سے ان کا مخالفین کے ساتھ تصادم ہوا ہے اور دونوں افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

بعد میں پولیس کی بھی ڈاکٹر مرسی کے حامیوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ان میں ایک سکیورٹی افسر اور تین رنگروٹ زخمی ہوگئے۔پولیس نے آٹھ مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔قاہرہ کے شمالی علاقے میں ایک اور مظاہرے کے دوران تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں