.

داعش سے خلیج اور اردن کو خطرہ ہے:حزب اللہ

داعش کو عراق اور شام کے بعض علاقوں میں مزاحمت کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے عراق اور شام میں برسرپیکار معاصر سنی جنگجو تنظیم دولت اسلامی (داعش) کو ایک عفریت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے اردن ، سعودی عرب ،کویت اور دوسری خلیجی ریاستوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

شیخ حسن نصراللہ نے لبنانی روزنامے الاخبار کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''دولت اسلامی عراق وشام بآسانی ان علاقوں میں جنگجوؤں کو بھرتی کرسکتی ہے جہاں اس کی سخت گیر آئیڈیالوجی موجود ہے اور یہ نظریہ اردن ،سعودی عرب ،کویت اور دوسری خلیجی ریاستوں میں موجود ہے''۔

ان کا یہ انٹرویو اخبار نے جمعہ کو شائع کیا ہے۔اس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ''داعش کو عراق اور شام کے بعض علاقوں میں مزاحمت کا سامنا ہے لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس تنظیم کے جنگجوؤں کی تعداد اور ان کی صلاحیتیں اور اہلیتیں بہت وسیع تر ہیں۔یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے ہر کوئی تشویش زدہ ہے اور ہرکسی کو مشوش ہی ہونا چاہیے''۔

حسن نصراللہ کی حزب اللہ شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں ان کی فوج کے شانہ بشانہ سنی مزاحمت کاروں اور داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑرہی ہے لیکن داعش سے شام میں سنی مزاحمت کاروں کی حمایت کرنے والا سعودی عرب بھی خطرے سے دوچار ہے اور اس نے عراق کے ساتھ واقع اپنی سرحد پر گذشتہ ماہ تیس ہزار فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔سعودی عرب کی ایران اور اس کی اتحادی حزب اللہ کے ساتھ سرد جنگ جاری ہے لیکن داعش نے ان دونوں فریقوں کو ایک صف میں لاکھڑا کیا ہے۔

حسن نصراللہ نے اس انٹرویو میں پہلی مرتبہ کھل کر داعش سے درپیش خطرے میں بارے میں گفتگو کی ہے اور کہا ہے کہ ''یہ خطرہ شیعوں ،سُنیوں ،مسلموں ،عیسائیوں اور دروز یا یزیدیوں یا عرب یا کردوں کی کوئی الگ پہچان نہیں رکھتا ہے۔یہ عفریت بڑھ رہا ہے اور بڑا ہوتا جارہا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''داعش (دولت اسلامی) کی سرحدیں نہیں ہیں۔یہ ایک حقیقی خطرہ ہے اور بہت سی ریاستوں اور حکام میں خوف پایا جارہا ہے کیونکہ اس تنظیم کو ایک سب سے بڑا یہ فائدہ حاصل ہے کہ وہ القاعدہ کے وہابی نظریے کے پیروکاروں کو بھرتی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے''۔

انھوں نے انٹرویو میں شامی تنازعے میں حزب اللہ کے کردار کا دفاع کیا ہے۔ اس شیعہ جنگجو گروپ کی کی شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑائی کے نتیجے میں اسد حکومت کو حالیہ مہینوں کے دوران فتوحات ملی ہیں،شامی فوج نے دمشق کے نواح میں بہت سے علاقے باغیوں سے واپس لے لیے ہیں اور انھیں پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

تاہم حزب اللہ کے مخالف لبنانیوں کا کہنا ہے کہ اس کی شام میں مداخلت کی وجہ سے باغی جنگجوؤں کو لبنانی علاقے میں دراندازی کا جواز ملا ہے۔داعش کے جنگجوؤں سمیت بیسیوں مزاحمت کاروں نے حال ہی میں لبنان کے سرحدی قصبے عرسال پر دھاوا بول دیے تھے اور لبنانی فوج پانچ روز کی لڑائی اور مقامی سنی زعماء کی مداخلت کے بعد قصبے کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہوئی تھی جبکہ جنگجو جاتے ہوئے انیس فوجیوں اور سترہ پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لے گئے تھے۔

شیخ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ ''اگر حزب اللہ شام میں جاکر نہ لڑرہی ہوتی تو مزاحمت کار لبنان کے ساحلی علاقوں تک پہنچ جاتے۔اس لیے شام میں لڑائی میں شریک ہونے کا مقصد لبنان کا دفاع اور اس کی مزاحمت تھی''۔

حزب اللہ شام ہی نہیں بلکہ عراق میں بھی داعش کے جنگجوؤں کے خلاف سرکاری فوج کے ساتھ مل کر لڑرہی ہے اور اس کا ایک کمانڈر گذشتہ ماہ شمالی شہر موصل کے نزدیک داعش کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا تھا لیکن ابھی تک حزب اللہ نے باضابطہ طور عراقی تنازعے میں مداخلت کا اعتراف نہیں کیا ہے۔