عراق: گاوں پر داعش کا حملہ، 80 افراد ہلاک

ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد یزیدی قبیلے کے لوگوں کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

داعش سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے شمالی عرق کے گاوں کوچھو پر حملہ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان ہلاک کیے افراد میں بڑی تعداد یزیدی قبیلے کے لوگون کی ہے۔

عراقی ذمہ دار ہوشیار زیباری کے مطابق ہفتے کے روز داعش نے وسیع پیمانے پر قتل عام کیا ہے۔ ان اطلاعات کی عراق کے سرکاری اور انٹیلی جنس ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے۔

داعش کی اس کارروائی کے دوران تقریبا 80 لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ واضح رہے عراق کی یزیدی کمیونٹی نسلی بنیاد پر ایک مذہب کی ماننے والی ہے۔ اس مذہب کو قدیمی زرتشتی مذہب سے منسلک بتایا جاتا ہے۔

کرد سیاسی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان پارٹی کے دھوک صوبے کے اہم ذمہ دار حریم کمال اغا نے کہا ہے کہ نینوا کے اس پڑوسی صوبے میں داعش کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 81 ہو گئی ہے۔ حریم کمال کے مطابق عسکریت پسندوں نے یزیدی عرتوں کو قیدی بھی بنایا ہے۔

دریں اثناء ایک یزیدی جنگجو محسن توال نے فون پر بتایا ہے کہ '' میں گاوں میں بڑی تعداد میں لاشیں دیکھی ہیں۔'' محسن توال کے مطابق گاوں کے لوگوں کو محاصرے میں لے کر مارا گیا، ہرطرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں گاوں سے صرف دو افراد بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔''

واضح رہے داعش پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ مسیحی اور یزیدی اقلیتوں کے لوگوں کو بطور خاص نشانہ بنا رہی ہے اور دونوں اقلیتوں کے لوگوں کا اپنے علاقوں میں رہنا مشکل ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں