شامی فوج کی الرقہ میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری

فضائی حملوں میں داعش کے 16 جنگجو ہلاک ،40 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی فوج کے لڑاکا طیاروں نے صوبہ الرقہ کے قصبوں اور دیہات میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی شام وعراق کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں سولہ جنگجو ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ شامی طیاروں نے شمال مشرقی صوبے الرقہ میں داعش کے مضبوط مراکز پر انیس فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں سے چھے میں داعش کی ایک فوجی عدالت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے شام می موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ الرقہ میں فضائی حملوں میں داعش کے سولہ جنگجو ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ان کے علاوہ بائیس شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔تاہم انھیں مہلوکین یا زخمیوں کی حقیقی تعداد کے اعداد وشمار فراہم نہیں ہوئے ہیں۔

شامی حزب اختلاف کے تحت مقامی رابطہ کمیٹیوں نے بھی الرقہ میں سرکاری فوج کے فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے مگر اس نے ہلاکتوں کی تعداد گیارہ بتائی ہے۔شامی کارکنان کے ان دونوں گروپوں نے صوبہ حلب میں بھی داعش کے کنٹرول والے علاقوں پر سرکاری فوج کے فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

صدر بشارالاسد کی فوج نے گذشتہ ایک سال کے دوران ملک کے شمالی صوبوں میں داعش کے ٹھکانوں پر کم ہی حملے کیے تھے اور اس کے بجائے وہ دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی رہی ہے لیکن پڑوسی ملک عراق میں دولت اسلامی کی حالیہ فتوحات اور اس کی اپنے زیرنگیں علاقوں میں حکومت کے قیام کے بعد سے اب شامی طیاروں نے داعش کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

شامی حزب اختلاف نے ہفتے کے روز امریکا سے عراق کی طرح شام میں بھی داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا مطالبہ کیا تھا۔داعش کے جنگجوؤں نے اس ہفتے کے دوران صوبہ حلب میں دس سے زیادہ قصبوں اور دیہات پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں پہلے سے قابض باغی جنگجوؤں کو مار بھگایا ہے۔انھیں جیش الحر یا دوسرے باغی جنگجو گروپوں کی جانب سے بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

داعش کے قبضے میں آنے والے علاقوں حلب سے پچاس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ترکمانوں کے دوقصبے بارح اور اخترین بھی شامل ہیں۔داعش کی ان کارروائیوں کے بعد جیش الحر اور دوسرے جنگجو گروپوں کے لیے ترکی سے سپلائی لائن منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔حلب میں داعش کی حالیہ کامیابیوں کے پیش نظر شامی قومی اتحاد نے عالمی برادری سے جیش الحر کو فوری طور پر اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے تا کہ وہ اپنے عوام کا تحفظ کرسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں