.

اسرائیل مطالبات تسلیم کرے،نہیں تو لمبی جنگ: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے شعبہ امور خارجہ کے نگران اسامہ حمدان نے بتایا ہے کہ مصری دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی وفد کو پیش کی جانے والی تجاویز فلسطینی عوام کی امیدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔ حماس کے اس اعلان کے بعد مصر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے امکانات مخدوش ہو گئے۔

اسامہ حمدان کے فیس بک پیج کے مطابق"اسرائیل کو ہر صورت میں فلسطینی عوام کے مطالبات ماننا ہوں گے، انکار کی صورت میں لمبی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔"

اسرائیل نے آٹھ جولائی کو غزہ سے کی جانے والی راکٹ باری روکنے کے لیے 'حفاظتی کنارا' نامی فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی 18 لاکھ افراد کی آبادی میں سے 425٫000 افراد اس جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں اور اس کے علاوہ 1900 فلسطینی شہید جبکہ فلسطینی حملوں کے نتیجے میں 67 اسرائیلی ہلاک ہو گئے۔

قاہرہ میں فریقین براہ راست مذاکرات نہیں کر رہے ہیں کیوںکہ اسرائیل، حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ غزہ میں حماس سینئر عہدیدار اسماعیل ھنیہ نے تنظیم کے ترجمان الاقصٰی ٹی وی کو بتایا کہ حماس کے مطالبات میں غزہ کے محاصرے اور فلسطینیوں پر عاید سفری پابندیوں کو ختم کرنا شامل ہے۔

جمعہ کے روز یورپی یونین نے کہا تھا کہ وہ مصر اور غزہ کے بارڈر پر یورپی یونین مشن کو دوبارہ شروع کرنے کی خواہش رکھتی ہے تاکہ جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں کو مستحکم کیا جا سکے۔

یورپی یونین کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ بلاک اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے حمایت یافتہ طریقہ کار کے ذریعے سے مدد کے لیے تیار ہے۔