اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کے گھر تباہ کر دیے

طلوع آفتاب سے پہلے ہی ایک گھر کو سر بمہر بھی کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے پیر کے روز دو فلسطینیوں کے گھروں کو تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ مغربی کنارے میں پیش آیا ہے۔

فوج کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج نے یہ کارروائی اس شک کی بنیاد پر کی ہے کہ دونوں گھروں کے مالک فلسطینی مبینہ طور پر ماہ جون میں اسرائیلی نوجوانوں کے اغواء اور قتل میں ملوث تھے۔

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے جنوبی حصے میں میں حسام کاواسامی اور عامر ابو عائشہ کے گھروں پر طلوع آفتاب سے پہلے منہ اندھیرے حملہ کر دیا، جبکہ مبینہ طور پر اسرائیلی نوجوانوں کے اغواء اور قتل میں ملوث تیسرے فلسطینی شہری مروان کاواسامی کے گھر کو فوج نے سر بمہر کر دیا ہے۔

اسرائیل نے اس سے پہلے ماہ جون میں تین یہودی لڑکوں گیلاد شائر، نفتالی فرینکل،اور ایال یفرح کے لاپتہ ہونے پر ان کے اغواء کا الزام حماس پر عائد کیا تھا ، جبکہ حماس نے اس الزام کو قبول نہیں کیا تھا۔ واضح رہے دو ہفتے بعد ان یہودی لڑکوں کی لاشیں مل گئی تھیں۔

مغربی کنارے کے رہائشی چالیس سالہ حسام کاواسامی کو ماہ جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ بقیہ دو مشتبہ ملزمان گرفتار نہیں کیے جا سکے تھے۔

ان تین افراد کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے فلسطینی عوام کے خلاف پرتشدد کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ اس کے بعد غزہ میں ایک ماہ تک مسلسل بمباری اور گولہ باری کر کے کم 2000 فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں