شامی فوج کی بموں کی بارش سے الملیحہ قصبہ ملبے کا ڈھیر

قصبے پر چار ماہ میں 7000 بم گرائے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے دمشق کے مضافاتی علاقے مشرقی الغوطہ کے الملیحہ قصبے پر بیرل بموں اور دیگر فضائی اور زمینی حملوں میں قصبے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔

انقلابیوں کے مقرب خیال کئے جانے والے سیرین پریس نیٹ ورک نے الملیحہ پر سرکاری فوج کی بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے حقائق اور اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ سیرین پریس کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ کچھ عرصے سے شامی فوج نے الملیحہ قصبے پر بیرل بموں سمیت مختلف نوعیت کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے7 ہزار بم برسائے جس کے نتیجے میں قصبے کا 70 فیصد انفراسٹرکچر اور شہریوں کے رہائشی مکانات ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ شامی فوج نے حال ہی میں مشرقی الغوطہ کے الملیحہ قصبے کا دو سال کے طویل محاصرے اور بمباری کے بعد دوبارہ کنٹرول سنھبالا ہے۔ سرکاری فوج الملیحہ کے ملبے کے ڈھیر پر اپنی فتح کا جشن منا رہی ہے۔ الملیحہ قصبہ دارلحکومت کے قریب واقع غریب علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس قصبے پر گذشتہ ڈیڑھ سال سے سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان مسلسل لڑائی جاری رہی ہے، جس کے نتیجے میں قصبے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔

جب سرکاری فوج نے قصبے پر بمباری شروع کی اس وقت وہاں کی کل آبادی 25 ہزار کے لگ بھگ تھی تاہم بمباری کے نیتجے میں ہزاروں افراد مارے گئے اور جو بچ رہے تھے وہ بے یار و مددگار دمشق اور دوسرے علاقوں میں دربدر ہیں۔ فوج کے حملے کے وقت یہاں پر 400 حکومت مخالف جنگجو موجود تھے۔ انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے حملے کیے گئے۔

شامی اپوزیشن کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ چار ماہ کے دوران شامی فوج نے الملیحہ قصبے پر جنگی طیاروں کے ذریعے 800 بیرل بم برسائے۔ زمین سے زمین پر مار کرنے والے 700 میزائل جبکہ توپ خانے، ٹینکوں اور ھاون راکٹوں کے سات ہزار حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں قصبے کا 70 فیصد حصہ مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں