عراق: نئی حکومت کی تشکیل میں کردوں کی شرکت

صدراوباما کی اجازت سے عراق میں ''امریکی مفادات'' کے تحفظ کے لیے فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کے سبکدوش ہونے والے وزیرخارجہ ہوشیار زیباری نے کہاہے کہ کرد سیاست دان نئی مرکزی حکومت کی تشکیل کے لیے ہونے والے مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

ہوشیار زیباری نے سوموار کو رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میں کردوں کی شمولیت کی معطلی کے خاتمے سے متعلق حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عراق کے سبکدوش وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت اور علاقائی کردستان کی حکومت کے درمیان تیل کے وسائل اور بجٹ کی تقسیم سے متعلق اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور کردوں نے وفاقی حکومت سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی۔ان کی اقتدار سے علاحدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کرد لیڈر نے نامزد وزیراعظم حیدرالعبادی کی قیادت میں نئی حکومت میں شمولیت کے لیے مذاکرات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

ہوشیار زیباری نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کرد فورسز نے امریکی فضائیہ کی مدد سے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کو موصل ڈیم سے پسپا کردیا ہے اور ملک کے اس سب سے بڑے ڈیم پر قبضہ کر لیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے عراق کے سب سے بڑے ڈیم پر داعش کے جنگجوؤں کا قبضہ چھڑوانے کے لیے محدود پیمانے پر فضائی حملوں کی اجازت دی تھی۔

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کی خاتون ترجمان کیٹلن ہیڈن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے فضائی حملے کانگریس کی''جنگی طاقت قرارداد'' کے مطابق ہیں اور اس کے تحت صدر کو کانگریس سے پیشگی منظوری لینا ضروری نہیں ہے۔

ترجمان کے بہ قول گذشتہ جمعہ سے عراقی حکومت کی درخواست پر یہ فضائی حملے کیے جارہے ہیں اور ان کی مدد سے ہی کرد جنگجوؤں نے اتوار کی صبح موصل ڈیم پر دوبارہ قبضہ کیا تھا۔

صدر اوباما نے ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور سینٹ کے نائب سربراہ کے نام لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ انھوں نے امریکا کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات میں ان اقدامات کی ہدایت کی تھی اور امریکا کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف اور چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے حاصل آئینی اختیار کے تحت ان حملوں کا حکم دیا تھا۔

قبل ازیں اتوار کو امریکی فوج نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس نے کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل اور موصل ڈیم کے نزدیکی علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں اور گاڑیوں پر چودہ فضائی حملے کیے تھے تاکہ کرد فورسز داعش کے جنگجوؤں سے دوبارہ اس ڈیم کا قبضہ واپس لے سکیں۔ہفتے کے روز امریکی طیاروں نے نو اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکا کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق لڑاکا جیٹ اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں نے ان حملوں میں داعش کی چار بکتر بند گاڑیوں اور دو حمویوں سمیت دس دوسری گاڑیوں کو تباہ کردیا تھا یا انھیں نقصان پہنچایا تھا۔سینٹ کام نے یہ حملے عراق میں انسانی امدادی کوششوں اور امریکی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے کیے تھے۔

درایں اثناء برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ عراق میں ایک اور جنگ میں ملوث نہیں ہوگا اور وہاں برسرزمین اپنے فوجی نہیں بھیجے گا۔انھوں نے سوموار کو بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں دوسروں کی مدد کے لیے اپنے اثاثے ،سفارت کاری ، سیاسی تعلقات اورامداد کو بروئے کار لانا چاہیے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں