یہودی بستیوں میں تیار مصنوعات کی برآمد روک دی گئی

اقدام یورپی کمیشن کی پابندیوں کی روشنی میں اٹھایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی اور یورپی حکام کے مطابق اسرائیل یورپی یونین کی جانب سے غیر قانونی سمجھی جانے والی یہودی بستیوں میں تیار کی جانے والی پولٹری اور ڈیری مصنوعات کی برآمد ختم کر دے گا۔

اسرائیل کی جانب سے یہ اقدامات یورپی کمیشن کی جانب سے فروری میں جاری کئے جانے والے فیصلوں کی روشنی میں اٹھائے گئے ہیں اور ان سے مشرقی بیت المقدس، گولان کی پہاڑیوں اور مقبوضہ بیت المقدس کی یہودی بستیوں کی پولٹری اور ڈیری مصنوعات متاثر ہوں گی۔

ایک یورپی عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یورپی یونین نے اپنے پرانے فیصلوں کی روشنی میں اسرائیل کی غیر قانونی یہودی بستیوں میں تیار شدہ مصنوعات کی ویٹنری انسپیکشن سروسز کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عہدیدار کے مطابق ان فیصلوں کے اطلاق کے حوالے سے کی جانے والی بات چیت میں اسرائیلی حکام سے کہا گیا تھا کہ وہ ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی تیاری کے شہروں کی وضاحت کے حوالے سے کوئی نظام وضع کریں۔

یورپی عہدیدار کا کہنا تھا کہ" اگر ایسا کوئی نظام وضع کر دیا جاتا ہے تو اسرائیل سے برآمد کی جانے والی پولٹری اور ڈیری مصنوعات متاثر نہیں ہوں گی۔" یورپی کمیشن کے فیصلوں پر یکم ستمبر سے عمل درآمد شروع ہو گا۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ وزارت زراعت نے پولٹری اور ڈیری مصنوعات بنانے والوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ یورپی یونین کے فیصلے کے لئے تیاری کریں اور یورپ میں مصنوعات کی برآمد جاری رکھنے کے لئے یہودی بستیوں سے تیار کردہ مصنوعات الگ کر لیں۔

عہدیدار کے مطابق یہودی بستیوں میں تیار کی جانے اسرائیلی مصنوعات اتنی اہمیت کی حامل نہیں تھی اور وہ بنیادی طور پر دائیں بازو کے یہودیوں کے لئے تیار کی جاتی تھیں جو کہ مذہبی قوانین کی سختی سے پابندی کرتے ہیں اور کوشر کھانے کھاتے ہیں۔

اسرائیلی روزنامہ ہارٹز نے وزارت خارجہ اور زراعت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس فیصلے کا معیشت پر کم سے کم اثر پڑے گا کیونکہ یہودی بستیوں میں تیار شدہ مصنوعات کو اب مقامی اسرائیلی مارکیٹ میں بیچا جائے گا۔

ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے اس اقدام کو یہودی ریاست کو تنہا کرنے کا یورپی طریقہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔

یہودی عہدیدار نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ یورپی یونین نے بہت لمبے عرصے سے یہودی بستیوں کی مصنوعات کی نشاندہی اور یورپ میں اس کی برآمد پر پابندی لگانے کی کوشش کی ہے مگر وہ قانونی مشکلات اور تجارتی معاہدوں کی وجہ سے ایسا کرنے میں ناکام رہے تھے۔

عہدیدار کے مطابق یورپی یونین کوئی ایسے قوانین نہیں لا رہی ہے کہ جس سے دنیا کے دوسرے متنازعہ علاقوں جیسے قبرص، مغربی صحارا یا کوسوو کی مصنوعات پر پابندی لگائی جائے۔ اسی لئے اس نے یورپی کمیشن کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف سیاسی موقف کو بزور بازو منوایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں