.

"امن کی ضمانت کے بغیر غزہ جنگ بندی ممکن نہیں"

اپنے مسلمہ قومی مطالبات پر قائم ہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ اسرائیلی سلامتی کی ضمانت ملنے تک فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں مزاحمت کاروں سے جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی کیونکہ طویل المیعاد جنگ بندی کے لیے فلسطینیوں کی طرف سے مکمل امن وسلامتی کی ضمانت ملنا ضروری ہے۔

تل ابیب میں کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاھو نے کہا کہ "اگر اسرائیل کی سلامتی سے متعلق ہمارے مطالبات کا مثبت جواب ملتا ہے تو ہم جنگ بندی کی بات چیت کو آگے بڑھائیں گے، ورنہ قاہرہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے"۔

خیال رہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے مذاکراتی وفود غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی کی خاطر بات چیت کے لیے دوبارہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے ہیں۔ گذشتہ بدھ کو مصری حکومت نے فریقین کو پانچ روز کے لیے عارضی جنگ بندی میں توسیع پر قائل کر لیا تھا تاہم امن بات چیت میں فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہ کرنے پر بات چیت ڈیڈ لاک کا شکار رہی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ "غزہ جنگ میں حماس کو کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ اس لیے اس کی پوری کوشش ہے کہ قاہرہ مذاکرات کو کامیاب بنایا جائے۔ اگر حماس اپنے عسکری خسارے کو سیاسی بات چیت کے ذریعے چھپانے کی کوشش کرے گی تو یہ اس کی غلط فہمی ہو گی۔ حماس کی جانب سے ہمیں راکٹ حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان دھمکیوں سے ہمیں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔"

حماس اپنے موقف پر قائم

دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق اس کے مطالبات قومی امنگوں کے عین مطابق ہیں، جن سے کسی صورت میں دستبردار نہیں ہوں گے۔ حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے غزہ کی پٹی میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ"ہم اپنے جائز اور قومی مطالبات پر قائم ہیں۔ ہمارے مطالبات بنیادی انسانی حقوق سے تعلق رکھتے ہیں،جن سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اسرائیل کو ہماری شرائط اور مطالبات منظور نہیں ہیں تو فلسطینی طویل جنگ لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں"۔ ڈاکٹر ابو زھری کا کہنا تھا کہ گیند اب اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔ اسرائیل کو ہماری شرائط قبول نہیں تو ہم طویل جنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔

درایں اثناء اسرائیل کے وزیر مواصلات گیلاد اردان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں سے بات چیت میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والی مصری حکومت نے بھی جنگ بندی سے متعلق کچھ شرائط پیش کی ہیں۔ اسرائیل کسی قسم کی شرائط قبول نہیں کرے گا۔ اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت کے بغیر کوئی بھی بات چیت ہمیں منظور نہیں ہے۔